راکھا

by Other Authors

Page 149 of 183

راکھا — Page 149

وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ' خاوند عورت کیلئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔پس مرد میں جلالی اور جمالی رنگ دونوں موجود ہونے چاہئیں۔اگر خاوند عورت کو کہے کہ تو انیوں کا ڈھیر ایک جگہ ہی اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دے تو اُس کا حق نہیں کہ اعتراض کرے۔ایسا ہی قرآن کریم اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مُرشد کے ساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہئے جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہے۔مرشد کے کسی حکم کا انکار نہ کرے اور اُس کی دلیل نہ پوچھے۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۴۸) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: و جس طرح خدا اپنے بندوں سے انتہائی محبت کرنے والا ہے اُسی طرح خاوند کو بھی اپنی بیوی کے متعلق غیر معمولی محبت کا مقام حاصل ہوتا ہے اور جس طرح باوجود اس محبت کے خدا اپنے بندوں کا حاکم اور نگران ہے اسی طرح خاوند بھی بیوی کی محبت کے باوجود گھر کا نگران اور قوام ہوتا ہے۔پھر جس طرح خدا اپنے بندوں کا رازق ہے اور ان کی روزی کا سامان مہیا کرتا ہے اسی طرح خاوند بھی اپنی بیوی کے اخراجات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے۔اور اسی طرح اور بھی کئی پہلو مشابہت کے ہیں اور یہ مشابہت اتنی نمایاں ہے کہ ہماری زبان میں تو خاوند کو مجازی خدا کا نام دیا گیا ہے اور لفظاً بھی خداوند اور خاوند ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔۔۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ خدا اپنے حقوق سے تعلق رکھنے 149