راکھا — Page 147
بھی اس لئے جائز ہیں کہ تا وہ درماندہ ہو کر رہ ہی نہ جائے۔تم بھی ان چیزوں کو اسی واسطے کام میں لاؤ۔ان سے کام اس واسطے لو کہ یہ تمہیں عبادت کے لائق بنائے رکھیں نہ اس لئے کہ وہی تمہارا مقصود اصلی ہوں آنحضرت ﷺ قرآن شریف کے شارح ہیں۔آپ ایک موقعہ پر بڑے گھبرائے ہوئے تھے۔حضرت عائشہ کو کہا کہ اے عائشہ ہمیں آرام پہنچاؤ۔اور اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آدم کے ساتھ تو ا کو بھی بنا دیا تا وہ اس کے واسطے ضرورت کے وقت سہارے کا موجب ہو۔عورتوں کو پیدا کرنے میں ستر یہی ہے کہ خدا کی راہ میں نفس کی قربانی کیواسطے جو ایک کوفت پیدا ہوتی ہے یہ اس کا سہارا ہو جاویں۔‘‘ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۲۴۷-۲۴۹) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: دنیوی زندگی میں انسان کیلئے جو چیزیں ضروری اور لازمی ہیں اور جن کے ذریعہ انسان آرام اور سکینت حاصل کر سکتا ہے وہ میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات سے جو سکون اور آرام انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ اسے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ان وجودوں کو ایک دوسرے کیلئے مودت اور رحمت کا موجب قرار دیا ہے۔اسی طرح بائیبل میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے آدم کیلئے تو ا پیدا کی تا کہ وہ آدم کیلئے آرام اور سکون کا 66 باعث ہو۔یعنی تو ا کے بغیر آدم کیلئے تسکین اور آرام کی صورت اور کوئی نہ تھی۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ۵۱۹) 147