راکھا — Page 145
سکتی ہے۔علاوہ ازیں عورتوں سے متعلق سماجی اور تعلیمی وتبلیغی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ اُس کی گھریلو ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔عورتوں سے جن فرائض کی ادائیگی کا اسلام تقاضا کرتا ہے اب اُن کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے۔لتَسْكُنُوا إِلَيْهَا اللہ تعالیٰ نے زندگی کی ہر ایک قسم کا اُسی کی جنس سے جوڑا بنایا ہے۔اُس نے اشرف المخلوقات انسان کی بھی اپنی ہی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا تا کہ انہیں ایک دوسرے سے تسکین ، آرام اور سکون حاصل ہو اور پھر نہ صرف اُن دونوں کے درمیان بلکہ خاندانوں اور پورے معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی محبت اور پیار کے جذبات تشکیل پائیں۔اللہ تعالی فرماتا ہے : وَ مِنْ ايته أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ ط بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً ، إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔(الروم (۲۲) ترجمہ: ” اور اس کے نشانات میں سے (یہ بھی) ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنائے تا کہ تم اُن کی طرف تسکین (حاصل کرنے) کے لئے جاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔یقیناً اس میں ایسی قوم کیلئے جو غور وفکر کرتے ہیں بہت سے نشانات ہیں۔“ حضرت خلیفہ اسیح اول فرماتے ہیں : لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا : یا درکھو بیبیاں اس لئے ہیں کہ ان سے آرام پاؤ۔بہت بد بخت ہیں وہ جو بی بی کو دکھ سمجھیں۔مَوَدَّهُ : ان کے ذریعے دو مختلف خاندانوں میں باہمی محبت بڑھتی ہے۔“ 66 145