راکھا — Page 144
صالحہ، قانتہ اور جانثار بی بی کیلئے اُس کے عظیم خاوند کے دل میں اُٹھنے والے جذبات محبت کا بے اختیار ا ظہا ر ہے۔دنیا کے دیگر عظیم لوگوں کے حالات زندگی کے مطالعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی بیویاں کسی نہ کسی رنگ میں اُن کے کاموں میں ضرور اُن کی مد در گار رہی ہیں۔مثال کے طور پر سائنسدان جو عموماً لیبارٹریوں میں اس حد تک مستغرق رہتے ہیں کہ اُنہیں لباس کا ہوش ہوتا ہے نہ کھانے کا۔ایسے حالات میں اُن کی جیون ساتھی ہی ہوتی ہیں جو اُن کا حوصلہ بندھاتی اور اُن کی ضروریات کا خود خیال رکھتی ہیں۔وہی اُن کو دیگر مصروفیات اور تفکرات سے فارغ رکھتی ہیں اور تبھی وہ یکسوئی سے محنت کر کے اپنے مشن میں کامیاب ہوتے ہیں۔مبلغین کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔یہ لوگ تو واقف زندگی ہوتے ہی ہیں ان کی بیویاں بھی ایک طرح سے وقف ہی ہوتی ہیں۔وہ اِن کیلئے گھر کا ماحول خوشگوار رکھتی ہیں ، بچوں کی تعلیم و تربیت اور دیگر مصروفیات کے بڑے حصے کا بوجھ خود اٹھا لیتی ہیں اور اپنے خاوندوں کو تبلیغی اور تعلیمی و تربیتی خدمات کیلئے فارغ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔یہی ان کا وقف ہے جس کا خدا کے حضور بدلہ ہے۔ایسی ہی کسی ” نیک بی بی کی یاد میں جب اُس کا خاوند تڑپتا ہے اور نمناک آنکھوں سے اُس کی محبتوں اور جانثاریوں کا تذکرہ کرتا ہے تو اُس بی بی کی خوش نصیبی پر دوسری عورتوں کو ضر ور رشک آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کی جیون ساتھی کو ایسا بنا دے کہ اُس کے بغیر انسان اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرے۔آمین۔یہ درست ہے کہ اسلام عورت کے کھلے عام کر دوں میں اختلاط کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ صرف گھر میں مقید ہو کر رہ جائے بلکہ ضرورت کے تحت اور مناسب احتیاط کے ساتھ وہ مرد کے فرائض میں بھی مدد دے 144