راکھا — Page 146
ایک اور موقعہ پر فرمایا: لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا : بیاہ کے بعد اگر خدا چا ہے تو انسان کو آرام ملتا ہے۔انسان کی آنکھ، ناک، کان وغیرہ بدی کی طرف راغب نہیں ہوتے۔سکونِ قلب حاصل ہوتا ہے۔نکاح آرام کیلئے ہوتا ہے، بے آرامی کیلئے نہیں ہوتا۔میں نے خود کئی بیاہ کئے ہیں۔ہر بیاہ میں مجھے آرام ملا۔وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً۔(حقائق۔الفرقان جلد ۳ صفحه ۳۵۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ نے انسان کے سلسلہ پیدائش کی علت غائی صرف اپنی عبادت رکھی ہے۔وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون پس حصر کر دیا ہے کہ صرف عبادت الہی مقصد ہونا چاہئے اور صرف اسی غرض کیلئے یہ سارا کارخانہ بنایا گیا ہے۔۔۔۔دنیا کے یہ سامان اور یہ بیوی بچے اور کھانے پینے تو اللہ تعالیٰ نے صرف بطور بھاڑہ کے بنائے تھے جس طرح ایک یکہ بان چند کوس تک ٹو سے کام لے کر جب سمجھتا ہے کہ وہ تھک گیا ہے اُسے کچھ نہاری اور پانی وغیرہ دیتا ہے اور کچھ مالش کرتا ہے تا اس کی تھکان کا کچھ علاج ہو جاوے اور آگے چلنے کے قابل ہو اور درماندہ ہو کر کہیں آدھ میں ہی نہ رہ جائے۔اس سہارے کیلئے اُسے نہاری دیتا ہے۔سو یہ دنیوی آرام اور عیش اور بیوی بچے اور کھانے کی خورا کیس بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھاڑے مقرر کئے ہیں کہ تا وہ تھک کر اور درماندہ ہو کر بھوک سے پیاس سے مر نہ جاوے اور اس کے قومی کے تحلیل ہونے کی تلافی مافات ہوتی جاوے۔۔۔۔حقوق نفس تو جائز ہیں مگر نفس کی بے اعتدالیاں جائز نہیں۔حقوق نفس 146