راکھا

by Other Authors

Page 91 of 183

راکھا — Page 91

بتدریج اصلاح کے طریق اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ پہلے دوطریقوں کے بعد بھی اگر عورت اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتی تو تب بغرض اصلاح سزا دی جاسکتی ہے۔اگر درست طریق سے نصیحت کی جائے تو ممکن ہے وہ اصلاح کرلے اور خلوت میں اکیلا چھوڑنے کا ہی موقعہ نہ آئے چہ جائیکہ بدنی سزا کی نوبت آئے۔لیکن اگر بفرض محال کوئی عورت بالکل ہی بے لگام ہو چکی ہو اور وہ نہ تو نصیحت مانتی ہو اور نہ ہی خلوت میں تنہائی کا احساس اسے بغاوت اور سرکشی سے باز رکھنے میں مددگار ہوتا ہو تو پھر آخری علاج کے طور پر بدنی سزا کی اجازت دی گئی ہے۔یہ بات طے ہے کہ بعض طبیعتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اُن پر یہ حربہ کارگر ہو جاتا ہے۔لیکن اس کیلئے بھی پھر مرد پر پابندی ہے۔یہ نہیں کہ مغضوب الغضب ہوکر اندھا دھند عورت کو زدوکوب کرنے کی اجازت ہے۔ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔بلکہ اس حکم کے ذریعے ایسے مردوں کو پابند کیا گیا ہے جو اس قسم کی صورتِ حال برداشت نہیں کر سکتے اور فورا سختی پر اتر آتے ہیں۔انہیں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم قوام ہو ، برداشت اور حوصلے سے کام لو اور پہلے مختلف طریقوں سے نصیحت کرو۔اگر نہیں سمجھتی تو اسے خلوت میں اکیلا چھوڑ کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرو اور اگر پھر بھی وہ سرکشی سے باز نہیں آتی تو تب اجازت ہے کہ بدنی سزا دے سکتے ہو۔مارنے کیلئے تفاسیر میں مسواک سے مارنے کی تصریح بھی موجود ہے۔پھر وَلَا تَضْرِب الْوَجْهَ اور ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرَّح کے الفاظ بھی احادیث میں موجود ہیں۔یعنی چہرہ پر نہیں مارنا اور نہ ہی اس طرح مارنا ہے کہ جسم پر کوئی نشان پڑے۔اب قارئین خود ہی اندازہ کر لیں کہ یہ کونسی مار ہے اور وہ بھی پہلے اصلاح کے دو طریق اختیار کرنے کے بعد جن پر کئی مہینے بھی صرف ہو سکتے ہیں۔علاوہ ازیں یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ یہ ہر گز ضروری نہیں کہ مارنے کا تیسرا طریق ضرور ہی استعمال کرنا ہے۔اسلام کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے بعض طبیعتیں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ وہ بختی سے ماننے والی ہوتی ہیں۔ظاہر ہے ایسی عورت اگر اپنی اصلاح نہ کرے تو کوئی 91