راکھا

by Other Authors

Page 90 of 183

راکھا — Page 90

سخت گوئی اور زدوکوب پر پابندی: اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْتَغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًاء إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا ج كَبِيرًا ( النساء آیت ۳۵) ترجمہ: ” اور وہ عورتیں جن سے تمہیں باغیانہ رویے کا خوف ہو تو ان کو ( پہلے تو ) نصیحت کرو، پھر ان کو بستروں میں الگ چھوڑ دو اور پھر ( عند الضرورت ) انہیں بدنی سزا بھی دو۔پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر ان کے خلاف کوئی حجت تلاش نہ کرو۔یقیناً اللہ بہت بلند ( اور ) بہت بڑا ہے۔“ یہ وہ آیت کریمہ ہے جس سے بعض کم فہم مسلمان اور غیر مسلم ، عورتوں کو مارنے کا جواز نکالتے ہیں حالانکہ اس میں نہایت واضح طور پر درجہ بدرجہ تین طریق اختیار کرنے کا حکم ہے اور مارنے کا ذکر تیسرے نمبر پر ہے۔سب سے پہلی بات جو سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ عورت کے کس قسم کے عمل یا رویے سے اُسے باز رکھنے کے یہ علاج بتائے گئے ہیں؟ سو واضح ہو کہ اس کیلئے یہاں نشوز کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں سرکشی ، بغاوت ، نافرمانی۔ناشزہ ایسی عورت کو کہتے ہیں جو خاوند کی اطاعت سے باہر نکل جائے اور اپنے آپ کو اس سے بالا سمجھے۔غیر مرد کی طرف التفات کرے اور اپنے خاوند سے بغض رکھے۔اگر چہ اس قسم کے باغیانہ رویہ رکھنے والی عورت کو کسی بھی قوم اور مذہب کا مرد برداشت نہیں کر سکتا اور عین ممکن ہے کہ وہ پہلا علاج ہی اسے زود کوب کرنے سے کرے لیکن اسلام مرد کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا بلکہ 90