راکھا — Page 44
مل کرسفر زندگی کے امور نپٹانے چاہئیں۔خوبیاں اور خامیاں ہر انسان میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض خامیاں بھی ضرور موجود ہوتی ہیں۔مر دوں میں بھی اور عورتوں میں بھی۔ایسے لوگ جنہیں کسی پر نگران ، ناظم یا افسر مقرر کیا گیا ہو انہیں عموماً اپنے سے کم درجہ والوں میں ہی خامیاں نظر آتی ہیں اور یہ خیال اُنہیں کبھی نہیں آتا کہ بعض کمزوریاں یا خامیاں خود اُن میں بھی لازماً موجود ہیں جن کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ ماتحتوں کو بھی شکایت ہو۔اگر کوئی نگران اس اصولی بات کا لحاظ رکھتا ہے تو پھر اُسے اہلِ خانہ کی کمزوریوں سے صرف نظر کرنے کا زیادہ موقع ملتا ہے۔گھر کا ہونے کی حیثیت سے اسے یہ اصول بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ جس طرح اُسے اپنی بیوی میں بعض خامیاں نظر آتی ہیں بالکل اُسی طرح اُسکی بیوی کو بھی اُس کی بعض کمزوریاں ضرور نظر آتی ہونگی۔اسی طرح اگر بیوی میں کچھ خامیاں ہیں تو بہت سی خوبیاں بھی ضرور ہیں اور اُسے زیادہ تر خوبیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے: فَإِنْ كَرهُتُمُوهُنَّ فَعَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَّ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء ٢٠) ترجمہ : اور اگر تم انہیں نا پسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔‘ ( ترجمہ از حضرت خلیفہ اسیح الرابع ) اس بارہ میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفے ﷺ فرماتے ہیں: مومن کو اپنی مومنہ بیوی سے نفرت اور بغض نہیں رکھنا چاہئے۔اگر اُس کی ایک بات تجھے نا پسند ہے تو کچھ اچھی باتیں بھی ہونگی۔ہمیشہ اچھی باتوں پر نظر 44