راکھا — Page 40
ناز کا پہلو سب سے پہلا واسطہ اور تعلق جس سے ایک راکھے کا ہوتا ہے وہ اُس کی اہلیہ ہوتی ہے۔اُس کی اپنے جیسی، دل و دماغ اور احساسات و جذبات رکھنے والی شریک حیات جسے اُس نے زندگی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنا ہے۔مرد کی اس شریک سفر کی فطرت میں قدرتی طور پر ایک قسم کا ناز کا پہلو ہوتا ہے۔عورت چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی یہ بات کم و بیش سب میں ہوتی ہے۔مثال کے طور پر عورت کے نسوانی تقاضوں کا ہی ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اسے اپنے خاوند پر کسی دوسرے کا حق تسلیم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے چاہے وہ خاوند کے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔وہ بلا شرکتِ غیرے اُس کی بھر پور توجہ چاہتی ہے۔عورت کے اس قسم کے انداز فکر میں شدت کے نتیجے میں بسا اوقات گھر یلو زندگی میں مشکل صورت حال بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ناز کے پہلو کو فطرتی کبھی بھی کہا جاتا ہے اور اس کی مثال ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفے ﷺ نے پہلی سے دی ہے۔یہ امر مد نظر رہنا چاہئے کہ عورتوں میں یہ کبھی جب خود خالقِ حقیقی نے پیدا کی ہے تو ضرور اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ہوگا۔پسلیاں بھی تو ٹیڑھی ہوتی ہیں اور اگر یہ بالکل سیدھی ہوتیں تو خیال تو کریں کہ ہمارے جسموں کی کیا شکل ہوتی اور پھر ہمارے پھیپھڑوں ، دل اور سینے کے دیگر اعضاء کو جو ان ٹیڑھی پسلیوں نے ایک طاقچے کی طرح اپنے اندر حفاظت سے پکڑا ہوا ہے یہ بھی نہ ہو سکتا۔لہذا یہی ماننا پڑتا ہے کہ حکیم مطلق نے جس چیز کو جیسا بنایا ہے وہ اُسی طرح ہی درست ہے خواہ ہم اُس کی حکمت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔اس حوالے سے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث یہاں نقل کی جاتی ہے: 40