راکھا

by Other Authors

Page 19 of 183

راکھا — Page 19

اور حقوق بھی۔سربراہ مملکت نے گزرنا ہوتو بالعموم ہر قسم کی آمد و رفت روک کر اُس کی سواری کو گزارا جاتا ہے۔الارم بجاتی ہوئی پولیس یا ہسپتال کی گاڑی کو باقی تمام گاڑیاں راستہ دیتی ہیں اور اُسے سرخ اشارے سے گزرنے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے۔پس یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ فطری صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کے اعتبار سے نہ تو خاوند اور بیوی کے تمام کے تمام فرائض ایک جیسے ہیں اور نہ ہی حقوق۔مثلاً اسلام کے مطابق کمانا اور اہلِ خانہ کی ہر طرح کی ضروریات زندگی کی فراہمی مرد کا فرض ہے اور عورت کا حق۔اسی طرح نکاح کے موقع پر حسب استطاعت مہر کی رقم کی ادائیگی بھی مرد کا فرض ہے اور عورت کا حق۔حمل اور بچے کی پیدائش کی وجہ سے پوری دُنیا میں بعض حقوق عورت کو حاصل ہو جاتے ہیں جن کا مطالبہ کر نہیں کر سکتا۔اسی طرح متعدد ایسے فرائض ہیں جو صرف مرد سے خاص ہیں اور وہ عورت کے حقوق ہیں اور کئی ایسے ہیں کہ وہ عورت سے خاص ہیں اور وہ مرد کے حقوق ہیں۔حلیم مطلق نے کمال حکمت سے ان دونوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی نسبت سے صلاحتیوں سے نواز رکھا ہے اور انہی کے مطابق بعض فرائض مرد کے مقرر فرمائے ہیں اور بعض عورت کے اور بعض دونوں کے ایک جیسے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ان دونوں قسموں کے حقوق کو واضح طور پر الگ الگ رنگ میں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں : عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعاً نہیں کی مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں 19