راکھا

by Other Authors

Page 18 of 183

راکھا — Page 18

مساوات مرداور عورت میں مساوات کے حوالے سے ایک ایسے اہم نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانی ضروری معلوم ہوتی ہے جسے بعض اوقات نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور خصوصاً مغربی دُنیا میں اسلام میں عورت کے حقوق کے حوالے سے کہہ دیا جاتا ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق برابر ہیں اور اس کی تائید میں قرآن پاک کی آیت کا یہ حصہ بھی پیش کیا جاتا ہے: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِاالْمَعْرُوفِ ص (البقره ۲۲۹) ترجمہ: ”اور جس طرح اُن (عورتوں) پر کچھ ذمہ داریاں ہیں (ویسے ہی ) مطابق دستور انہیں بھی ( کچھ حقوق ) حاصل ہیں۔“ ( ترجمہ از تفسیر صغیر ) حضرت مصلح موعود گا یہ ترجمہ بہت ہی واضح ہے لیکن بعض احباب کی طرف سے دیئے جانے والے جواب میں اس کے مطابق پوری وضاحت نہیں کی جاتی۔آیت کا مطلب تو صاف ہے کہ جس طرح مردوں کے کچھ حقوق ہیں اسی طرح کچھ حقوق عورتوں کے بھی ہیں۔ہر پہلو سے ایک جیسے حقوق مراد نہیں ہیں۔دراصل حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک حقوق تو وہ ہیں جنہیں ہم بنیادی انسانی حقوق کا نام دیتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو حالات ، مرتبے یا ذمہ داریوں کی وجہ سے کسی کو حاصل ہوتے ہیں۔جہاں تک بنیادی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو وہ سب انسانوں کے ایک جیسے ہیں لیکن ذمہ داریوں کے اعتبار سے نہ تو سب کے فرائض ایک جیسے ہوتے ہیں اور نہ ہی حقوق۔ایک بادشاہ اور عام آدمی کے تمام کے تمام حقوق ہرگز ایک جیسے نہیں ہوتے۔مالک اور نوکر ، افسر اور ماتحت، والدین اور اولاد کے بعض فرائض بھی مختلف ہوتے ہیں 18