راکھا

by Other Authors

Page 20 of 183

راکھا — Page 20

کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ اُن کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۴۱۷۔۴۱۸) اس ارشاد سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں انسانی حقوق کا ذکر ہورہا ہے۔لیکن ذمہ داریوں کے اعتبار سے مردوں عورتوں کے حقوق کا آپ ان الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں : خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ اور اسی لئے مرد کو عورتوں کی نسبت قومی زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس وقت جو نئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے۔وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکلتا ہے یا مختلف۔ایک طرف تو اسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی۔غرضیکہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قویٰ کمزور ہیں اور کم بھی ہیں۔۔۔( ملفوظات جلدے صفحہ ۱۳۴) سورہ البقرہ کی محولہ بالا آیت کو سمجھنے کی چابی بِالْمَعْرُوف کا لفظ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ اس آیت کے حوالے سے تفسیر صغیر کے حاشیے میں فرماتے ہیں: یاد رکھنا چاہئے کہ ” مطابق دستور میں دستور کا جو لفظ ہے اس کے اصل معنی تو قانون اور رواج کے ہیں لیکن اردو میں کبھی یہ دستور کا لفظ common sense یعنی عقل عامہ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ شرفاء اور عقلاء کا یہی طریق ہے جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہی 66 ہوتے ہیں کہ عقل کا تقاضا یہی ہے۔“ 20