راکھا — Page 127
ہوتی ہے اور دونوں کیلئے امن وسکون کا باعث بن جاتی ہے لیکن اکثر ایسا ہوتا کہ طلاق ایک پہاڑ کی طرح گھر پر گرتی ہے اور اُسے پیس کر رکھ دیتی ہے۔پس اس حوالے سے گھر کے نگران کو پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اُس نے حتی المقدور طلاق سے بچنا ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر صلح کی کوئی صورت نہ رہے اور طلاق کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو اُس وقت عورت سے احسان کا سلوک کرنا ہے۔اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ بچوں کی صورت میں اُن کی پرورش اور مطلقہ کے اخراجات اٹھانے ہیں۔اب ان تینوں صورتوں کے بارہ میں کسی قدر تفصیل پیش کی جاتی ہے۔- اَبْغَضُ الْحَلَالِ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں: بہر حال طلاق ایک ایسی چیز ہے جسے رسول کریم ﷺ نے اَبْغَضُ الْحَلَال قرار دیا ہے۔یعنی جائز اور حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مکروہ اور ناپسندیدہ چیز۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیوی زندگی میں انسان کے لئے جو چیزیں ضروری اور لازمی ہیں اور جن کے ذریعہ انسان آرام اور سکینت حاصل کر سکتا ہے وہ میاں بیوی کے تعلقات ہیں۔میاں بیوی کے تعلقات سے جوسکون اور آرام انسان کو حاصل ہوتا ہے وہ اُسے اور کسی ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ہی دو وجود جو ایک دوسرے کیلئے تسکین اور آرام اور راحت کا موجب ہیں کبھی کبھی انہیں لڑائی اور جھگڑے کا موجب بنالیا جاتا ہے اور راحت اور سکون کی بجائے انسان کیلئے اس کا مد مقابل یعنی خاوند کیلئے بیوی اور بیوی کیلئے خاوند دنیا میں سب سے 127