راکھا

by Other Authors

Page 128 of 183

راکھا — Page 128

زیادہ تکلیف دینے کا موجب بن جاتا ہے۔ہزاروں خاوند ایسے ہیں جو اپنی بیویوں کیلئے بدترین عذاب ہوتے ہیں اور ہزاروں بیویاں ایسی ہیں جو اپنے خاوندوں کیلئے بدترین عذاب ہوتی ہیں۔ایسے مواقع کیلئے اسلام کا حکم ہے کہ مرد عورت کو طلاق دے دے یا عورت مرد سے خلع کرالے۔لیکن طلاق اور خلع سے پہلے اسلام نے کچھ احکام بیان کئے ہیں جن کو مد نظر رکھنا مرد اور عورت اور قاضیوں کا فرض قرار دیا گیا ہے تاکہ طلاق یا خلع عام نہ ہو جائے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں: إِنَّ اَبْغَضَ الْحَلَالِ عِنْدَ اللهِ الطَّلَاقُ یعنی حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز خدا تعالیٰ کے نزدیک طلاق ہے۔جب طلاق حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے تو ایک مومن جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہے وہ اس چیز کے کس طرح قریب جا سکتا ہے جس کے متعلق وہ سمجھتا ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔۔۔پس رشد و ہدایت یہ نہیں کہ طلاق کو عام کیا جائے بلکہ رشد و ہدایت یہ ہے کہ طلاق سے بچنے کی کوشش کی جائے۔حلال کے معنی یہ ہیں چا ہو تو کر سکتے ہو۔یہ قانون کے لحاظ سے منع نہیں لیکن تمہیں دوسروں کے خیالات دوسروں کے جذبات دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔جس حلال پر عمل کرنے سے دوسروں کے خیالات ، دوسروں کے جذبات ، دوسروں کی ہمدردی اور دوسروں کے پیار کا خون ہوتا ہو وہ حلال نہیں بلکہ ایسا حلال ایک جہت سے حلال ہے اور دوسری جہت سے حرام ہے۔جب دنیوی اور سفلی عشق رکھنے والے لوگ اپنے محبوب کی چھوٹی چھوٹی خفگی سے بھی ڈرتے ہیں اور اُس کو ناراض ہونے کا موقع نہیں دیتے 128