راکھا — Page 115
لڑکوں کو گھر سے باہر کے ماحول سے باپ ہی متعارف کراتا ہے۔سکول کی زندگی ، کھیل کے میدان، مساجد، جماعتی اور دیگر سماجی سرگرمیاں، لوگوں سے میل ملاقات اور آداب وغیرہ امور میں باپ ہی اُن کی راہنمائی کرتا ہے۔مثال کے طور پر اگر وہ زمیندار یا تاجر ہے تو ان پیشوں کے نشیب و فراز بھی وہی اپنے بیٹوں کو سمجھائے گا۔یہ سب امور ایسے ہیں جن میں باپ کا کردار ماں سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔در اصل ماں کے حوالے سے پرورش اور تربیت میں فرق نہیں کیا جاتا۔بچے کی پیدائش کے بعد چھ سات سال کی عمر تک اُس کی ابتدائی پرورش کا زمانہ ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ذمہ داری ماں ہی بہتر رنگ میں ادا کر سکتی ہے۔اس دوران وہ ساتھ ساتھ بچے کو بنیادی آداب اور ابتدائی تعلیم نماز، قرآن وغیرہ بھی سکھاتی رہتی ہے۔لیکن اس کے بعد بچے کے کردار کی تعمیر اور اُس کی مختلف صلاحیتوں کو سنوار نے اور چلا دینے میں باپ کا کردار ماں سے زیادہ ہوتا ہے۔جدید تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سکول کی ابتدائی تعلیم میں جن بچوں کی ماؤں کے ساتھ باپ بھی دلچسپی لیتے اور فعال ہوتے ہیں اُن کا معیار اُن بچوں کی نسبت کہیں بہتر ہوتا ہے جن کا خیال صرف مائیں رکھتی ہیں اور باپ بالکل توجہ نہیں دیتے۔قرآن کریم ، احادیث اور ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ظاہر ہے کہ اولاد کی تربیت اور تعمیر کردار میں بنیادی کردار باپ کا ہی ہے۔قرآنِ پاک میں مختلف انبیاء اور مومنین کی اپنی اولاد کیلئے دعائیں اور نصائح مذکور ہیں۔مثال کے طور پر : حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل اور حضرت یعقوب کی دعائیں اور نصائح: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ من 115