راکھا

by Other Authors

Page 114 of 183

راکھا — Page 114

ترجمہ: ” اور تم یہ توفیق نہیں پا سکو گے کہ عورتوں کے درمیان کامل عدل کا معاملہ کرو خواہ تم کتنا ہی چاہو۔اس لئے ( یہ تو کرو کہ کسی ایک کی طرف ) کلیۂ نہ جھک جاؤ کہ اس ( دوسری) کو گو یا لٹکتا ہوا چھوڑ دو۔“ اس آیت کی تشریح میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع فرماتے ہیں : ایک سے زیادہ شادیوں کے نتیجہ میں یہ تو ناممکن ہے کہ ہر بیوی سے ایک جیسی محبت ہو۔محبت کا معاملہ تو دل سے ہے۔لیکن انصاف انسان کے اختیار میں ہے۔اس لئے تاکید فرمائی کہ اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس صورت میں انصاف سے کام لینا ہے اور کسی ایک کو ایسے نہ چھوڑ دیا جائے کہ تم اس کی نگہداشت نہ کرو۔“ (حاشیہ ترجمۃ القرآن از حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ) تربیت اولا داور نگران کا کردار عموماً یہی خیال کیا جاتا ہے کہ امور خانہ داری کی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری بھی بنیادی طور پر صرف ماں پر عائد ہوتی ہے اور اس طرح بعض مر دحضرات اس اہم ترین فرض سے اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔بے شک کم سنی میں ماں سے ایک خصوصی تعلق ہونے کی وجہ سے بچے ماں سے قربت کا زیادہ موقعہ پاتے ہیں اور اُس سے مانوس بھی زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد یہ صورتِ حال بدلنے لگتی ہے۔جو نہی بچہ بھاگنے دوڑنے کے قابل ہوتا ہے اور اُس کی دلچسپیاں گھر سے باہر بھی نکلتی ہیں تو اُس عمر میں اُسے ماں سے بڑھ کر باپ کی ضرورت پیش آتی ہے۔خصوصاً 114