قربانی کا سفر — Page 45
نے جو کچھ فرمایا ہے بالکل درست ہے۔لائیں کاغذ اور قلم اور مجھ سے ابھی لکھوائیں۔چنانچہ اسی وقت ہم مشن کے دفتر میں پہنچے اور میں نے لوکل قانون کے مطابق انگریزی میں معاہدے کا ڈرافٹ تیار کر کے اس کی تین نقول کیں اور بطور گواہ جماعت کے دوسر یسر کردہ ممبران کو بلا کر اُن کے سامنے الحاج علی روجرز صاحب سے دستخط کروالئے۔چنانچہ اس کے بعد سے شہر کے وسط میں دونوں عمارتیں اور خالی زمین قانونی طور پر احمد مشن سیر الیون کی ملکیت ہے گئیں۔اُن کی مالیت مع زمین اس وقت تین ہزار پونڈ سے کم نہ تھی۔ان میں سے ایک عمارت میں پریس قائم کیا گیا اور دوسری عمارت جماعت کی سنٹرل لائبریری اور پبلک ریڈنگ روم کے طور پر استعمال ہو نے لگی جس کا افتتاح ملک کے سینکڑوں باشندوں کی موجودگی میں ”بو کے ڈسٹرکٹ کمشنر صاحب نے کیا اور پھر پبلک کا ہر طبقہ اس لائبریری اور ریڈنگ روم سے فائدہ اُٹھانے لگا۔اس ریڈنگ روم میں لوکل اخبارات کے علاوہ دنیا بھر سے ہر قسم کے کم و بیش تھیں روزنامے ، ہفتہ وار اور ماہوار اخبار اور رسالے وغیرہ باقاعدہ آیا کرتے تھے جن میں اکثر احمد یہ لائبریری کے نام پر مفت آتے تھے۔یہاں اظہار تشکر کے طور ذکر کرنا بھی مناسب ہو گا کہ مجوزہ پریس کی مشینیں خریدنے کے لئے محترم الحاج علی روجرز صاحب نے اپنے دونوں مکانوں کے علاوہ اپنے اور اپنے خاندان کی طرف سے بطور چندہ پریس 500 پونڈ نقد بھی ادا فرمایا۔فجزاہ اللہ تعالیٰ۔پریس کے لئے انگلستان سے آمدہ چار مشینیں سال ہا سال تک مشن کی ضروریات پورا کرنے کے علاوہ تجارتی لحاظ سے بھی سود مند ثابت ہوئیں۔تاریخ احمدیت جلد 18 صفحہ 69-467) 45