قربانی کا سفر — Page 44
سو پونڈ لکھ لیں اور پھر کہا کہ میں اس وقت پانچ سو پونڈ لکھواتا ہوں مگر میں دوں گا اس چیف سے زیادہ۔یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے ہے۔ایک معمولی گاؤں کا چیف ہے اور پھر احمدیت کا اتنا مخالف ہے کہ کہتا اگر دریا اُلٹا چلنے لگے تو یہ ممکن ہے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کہ میں احمدی ہوسکوں۔مگر پھر خدا تعالیٰ اسے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور نہ صرف احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے بلکہ یکدم اسے ہزاروں روپیہ سلسلہ کو پیش کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری فرماتے ہیں:۔مذکورہ بالا پریس کے لئے جب مالی تحریکیں کی جا رہی تھیں تو مجھے دن رات یہ فکر رہنے لگا کہ اب ہم احمد یہ پریس کہاں اور کس عمارت میں فٹ کریں کیونکہ ہمارے پاس اس وقت بو میں سوائے ایک احمد یہ دار التبلیغ کی عمارت کے اور کوئی عمارت نہ تھی۔اسی فکر میں ایک شب بے چینی کے عالم میں بار بار بستر پر پہلو بدلتے ہوئے خاکسار اللہ تعالیٰ کے حضور ملتجی تھا کہ الہی اس پریس کے لئے عمارت کا کیا انتظام کیا جائے کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ محترم الحاج علی روجرز صاحب کو تحریک کروں کہ وہ اپنے دو مکان اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جماعت کے نام ہبہ کر دیں چنانچہ اگلے روز خاکسار نے مکرم الحاج علی روجرز صاحب کے پاس جا کر انہیں کہا کہ جماعت کی فوری ضروریات کے پیش نظر آپ یہ دونوں مکان مع ساتھ والی زمین کے اللہ تعالیٰ کی خاطر احمد یہ مشن کو کر دیں کیونکہ ان کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔میں قربان جاؤں اس پیارے بزرگ بھائی کے وہ کسی تردد اور عذر کے بغیر فی الفور سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے وہ دونوں مکان ہبہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور کہنے لگے کہ آر 44