قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 6 of 81

قربانی کا سفر — Page 6

ہم نے عائلی زندگی کی ابتدا دیکھی کہ کیسے حضرت خدیجہ کی بہ شدہ رقم اور غلام آپ نے اللہ کی راہ میں بانٹ دیئے۔ہم نے آپ کی زندگی میں کثرت اموال کے موقعہ پر آپ کی جودوسخا اور قربانی کی لذت اٹھائی۔اب آپ کی زندگی کی آخری پونجی کی داستان سنیں جو سات درہم تھی۔حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ بنی کریم نے سات دینار حضرت عائشہ کے پاس رکھوائے تھے۔آخری بیماری میں فرمایا کہ اے عائشہ وہ سونا جو تمہارے پاس رکھوائے تھے کیا ہوا۔عرض کیا میرے پاس ہیں فرمایا صدقہ کر دو آپ پر غشی طاری ہو گئی اور حضرت عائشہ آپ کے ساتھ مصروف ہو۔جب ہوش آئی پوچھا کہ کیا وہ سونا صدقہ کر دیا ، عرض کی ابھی نہیں کیا ، چنانچہ آپ نے وہ دینار منگوا کر ہاتھ پر رکھ کر گنے اور فرمایا محمد کا اپنے رب پر کیا تو کل ہوا اگر خدا سے ملاقات اور دنیا سے رخصت ہوتے وقت یہ دینار اس کے پاس ہوں پھر وہ دینار صدقہ کر دیئے اور اس روز آپ کی وفات ہوگئی۔هشیمی مجمع الروالہ جلد 3 ص 124 مطبوعہ بیروت) یہ تھے ہمارے پیارے آقا جن کا ہر عمل تفسیر قرآن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے جانی اور مالی قربانیاں پیش کیں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کو قبول کیا بلکہ قرآن کریم میں امتیازی القاب سے نوازا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے سے راضی تھے۔سبحان اللہ کیا شان ہے ان پاک وجودوں کی آنحضور ﷺ نے بھی یہ ارشاد فرمایا کہ میرے صحابہ کی مثال ستاروں سے ماند ہے ( جو راستہ دکھانے میں محمد ہوتے ہیں) تم ان میں سے جس کسی کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔