قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 7 of 81

قربانی کا سفر — Page 7

آئیے اب قربانی کے سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور صحابہ کی زندگیوں سے وہ روحانی موتی جمع کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی مالی قربانیوں سے استوار کئے۔، قرآن کریم میں 50 کے لگ بھگ آیات ایسی ہیں جن میں انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں ہدایات اور تفصیلات ہیں۔ان میں سے چند ایک کا مطالعہ کرتے ہیں کہ جب ان کا نزول ہوا تو صحابہ نے کس قدر ان احکامات کو حرز جان بنایا اور قربانی کے اس سفر کو نہایت دلکش اور روحانیت سے پُر کر دیا۔١ - لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ، وَمَا تُنفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيم o تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہاں تک کہ تم اُن چیزوں میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو۔اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو تو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔(ال عمران : 93) اس سلسلے میں حضرت طلحہ نے ایک عظیم قربانی پیش فرمائی۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاری مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے۔ان کے کھجوروں کے باغات تھے جن میں سب سے زیادہ عمدہ باغ پر حاء نامی تھا جو حضرت طلحہ کو بہت پسند تھا اور مسجد نبوی کے سامنے بالکل قریب تھا، آنحضور بالعموم اس باغ میں جاتے اور اس کا میٹھا اور عمدہ پانی پیتے۔جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جب تم اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ نہیں کرتے نیکی کو نہیں پا سکتے تو حضرت ابو طلحہ آنحضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ آپ پر اس مضمون کی آیت نازل ہوئی ہے اور میری سب سے پیاری جائیداد آن 7