قربانی کا سفر — Page 5
اور آن صل الله لونڈی ڈرتی تھی کہ آپ لوگ اسے سزا دو گے۔اس کی مالکہ بولی کہ خدا کی خاطر پ کا ہمارے گھر چل کر آنے کے سبب میں اسے آزاد کرتی ہوں۔رسول کریم ﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی اور فرمانے لگے دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہمارے دس درہموں میں کیسی برکت ڈالی؟ ان درہموں میں اپنے نبی کو قمیض بھی عطا کر دی ، ایک انصاری کے لئے بھی قمیض کا انتظام کیا اور ایک لونڈی کی گردن بھی آزاد کر دی۔میں اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہوں جس نے اپنی قدرت سے یہ سب کچھ عطا فرمایا۔(اسوہ انسان کامل ص 441) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے شادی کی۔شادی کے بعد حضرت خدیجہ نے اپنا سارا مال اور غلام آنحضور ﷺ کو ہبہ کر دیا۔آنحضور ﷺ نے غلام زید بن حارثہ کو آزاد کر دیا اور اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ خرچ کئے۔اس نوجوانی میں جب لوگوں کو کس قدر ارمان ہوتے ہیں اور مالی فراخی کی کس قدر خواہش مگر حضور ﷺ نے یہ سب خدا کی خاطر قربان کر دیئے۔آئیے اب حضور ﷺ کی زندگی کا وہ لمحہ دیکھیں جب آپ کے پاس سب سے زیادہ اموال آئے اور آپ نے زندگی کے اس لمحے کو کیسے گزارا۔ایک دفعہ آپ کے پاس 70 ہزار درہم آئے اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو آپ کے پاس آیا یہ دور ہم آپ نے چٹائی پر رکھ دیئے پھر آپ بانٹنے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کو تقسیم کر کے دم لیا۔اس دوران جو سوالی بھی آیا اسے آپ نے عطا کیا۔یہاں تک کہ وہ چٹائی صاف ہو گئی ،ایک اور روایت میں 90 ہزار درہم بیان ہوا ہے۔(اسوہ انسان کامل ص 447) 5