قربانی کا سفر — Page 73
يُنْفِقُونَ أَمْوَا لَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرّ اوَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرہ:275) کہ وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی تو ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔پس جو خالصتا اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،اس کی رضا حل کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں، ان کا ہر خوف ، ہر غم اللہ تعالیٰ دُور کر دیتا ہے۔وہ اللہ کے ہو جاتے ہیں اور اللہ اُن کا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُن کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔مالی قربانی کے درد ناک اور انتہائی ایمان افروز متفرقه واقعات از حضرت خلیفه امسیح الرابع بیان فرمودہ 1984ء بعد ہجرت برائے لندن ایک نوجوان یہ خبر دے رہے ہیں اور یہ عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دین کا اس کی عطا کا سلسلہ بھی اس شدت کے ساتھ جاری ہے کہ کوئی اس میں ادھار نہیں ہے۔قرض نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ۔ایک نوجوان جرمنی کے لکھتے ہیں کہ میں بہت ہی دلبر داشتہ تھا کہ میرے پاس کچھ زیادہ نہیں اور مجھے جو آٹھ سو مارک ملتے ہیں یہ حکومت کی طرف ہیں اس میں مجھے نوکری نہیں ملی ہوئی کوئی اس میں سے چار سو کرائے کے نکل جاتے ہیں باقی چار سو میں گزارہ کرنا مشکل ہوتا لیکن ایسی سخت میرے دل میں تمنا تھی کہ میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدہ کر لیا اور دوسرے ہی دن اللہ تعالیٰ نے مجھے نوکری عطا فرما دی اور میں نے یہ چندہ جتنا 73