قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 72 of 81

قربانی کا سفر — Page 72

وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اسے خیال بھی نہ ہوگا ، ایسا انتظام کیا کہ ان کی ضروریات بھی پوری ہو گئیں اور وعدہ بھی پورا ہو گیا۔اور لکھتے ہیں کہ اس پر اپنے اس سچے وعدوں والے خدا کی حمد سے دل بھر گیا۔لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے دل جتنے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد سے بھر جائیں ہم کبھی اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیشہ اپنے دلوں کو حمد سے بھرا رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ کہا ہے کہ جتنا تم شکر کرو گے اتنا بڑھاؤں گا اور اللہ جب بڑھاتا ہے تو کئی گنا کر کے بڑھاتا ہے۔تو ہمارا شکر تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا جہاں تک اللہ تعالیٰ اس کا اجر دیتا اور بڑہاوا کرتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی حمد کرنے والوں اور اس پر توکل کرنے والوں کے ایمان کو اور بڑھاتا ہے۔یہی صاحب لکھتے ہیں کہ سیکرٹری تحریک جدید نے جب کہا کہ اتنا وعدہ کر دیا ہے کہ کس طرح ادا کرو گے تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہیں فکر ہے تو اس خدا کو میری فکر نہیں ہو گی جس کی رضا چاہنے کے لئے اور جس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے میں نے وعدہ کیا اور یہ خرچ کر رہا ہوں۔تو یہ حوصلے اور یہ تو کل احمدیوں میں اس لئے ہے کہ انہوں اس زمانے کے امام کی بیعت کی ہے اور بیعت میں آکر اللہ تعالیٰ کی صفات کا فہم و ادراک حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان میں بڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین ہے۔ان کو اس بات یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے۔ان کو اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر خالص ہو کر کی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔اُن کا اس بات پر قومی ایمان ہوتا ہے کہ اللہ تعالی خالصتاً اپنی خاطر کئے گئے ہر عمل کی بھر پور جزا دیتا ہے، اُن کو اس بات پر بھی یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ہر خوف کو امن میں اور ہر غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الَّذِينَ 72