قربانی کا سفر — Page 74
بھی لکھایا تھا وہ خدا کے فضل سے پورا ادا کر دیا ہے۔وو ایک خاتون کا خط میں آخر پر پڑھ کر سناتا ہوں جن سے خدا تعالیٰ نے 74 ء میں بھی قربانی کی تھی لیکن اس قربانی کا مزہ تھا اپ اس قربانی کا اور مزہ ہے اور یہ خوش قسمت بہن دونوں مزے لوٹ رہی ہیں۔وہ بھتی ہیں ” پیارے آقا 74ء میں لائل پور (فیصل آباد ) میں تھی غالباً شادی کے ایک سال بعد ہی خدا تعالیٰ نے محض اپنے خاص فضل سے اس گناہ گار بندی کو ان چند لوگوں میں چن لیا جن کو خدا تعالٰی کی راہ میں مالی قربانی کرنے کی توفیق ملی۔گھر جلایا گیا ،سامان لوٹا گیا ،میاں کو زدوکوب کیا گیا اور آخر کھمبے کے ساتھ باندھ کر جلانے کا پروگرام بنایا گیا تو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے ارادے خاک میں ملا دیئے اور مارنے والوں نے خود ہی ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہنا شروع کیا اور میرے میاں وہ جلا ہوا گھر دیکھنے گئے تو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ باقی تو تمام چیزیں لوٹ لیں یا جلائی گئیں لیکن زیور جو ایک معمولی سے لکڑی کے ڈبے میں رکھا ہوا تھا اس کو بے کار چیز سمجھ کر باہر صحن میں پھینک گئے اس طرح خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معجزانہ طور پر میرا تمام زیور بچا لیا اور اس حال میں اس گناہ گار کو خالی ہاتھ نہ ہونے دیا۔اس دن کے بعد ہم نے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات کو بارش کے قطروں کی طرح اپنے اوپر اترتے دیکھا۔خدا تعالیٰ نے وہ وہ چیزیں دیں ہیں کہ جن کا وہم و گمان بھی نہ کیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس معمولی سی قربانی کو اتنا بڑھا چڑھا کر قبول فرمایا اس وقت سے اس گناہگار کے دل میں بڑی شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ زیور جو جاتے جاتے رہ گیا تھا اس کو اپنے ہاتھ سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کروں۔“ (خطبہ جمعہ 13 جولائی 1984 ء خطبات طاہر جلد 3 ص 74-372) 74