قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 9 of 81

قربانی کا سفر — Page 9

لہلہاتے ہوئے باغات ہیں۔ط (سورۃ البقرہ آیت 248 تفسیر کبیر رازی جلد 6 ص 166) ٣- الَّذِينَ يَلْمِرُونَ الْمُطَّوَ عِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي صَّدَقَتِ وَ الَّذِيُنِ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَ هُمُ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمه وہ لوگ جو مومنوں سے دلی شوق سے نیکی کرنے والوں پر صدقات کے بارہ میں تہمت لگاتے ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو اپنی محنت کے سوا ( اپنے پاس) کچھ نہیں پاتے۔پس وہ ان سے تمسفر کرتے ہیں۔اللہ ان کے تمسخر کا جواب دے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ( مقدر) ہے۔قرآن کریم میں چھوٹی سی چھوٹی نیکی کے وافر اجر کا وعدہ کیا ہے اس کا عملی نمونہ حضرت عائشہ کے اس عمل سے واضح ہے ایک دفعہ کسی مسکین نے حضرت عائشہ سے کھانا طلب کیا ان کے سامنے انگور کا ایک خوشہ رکھا ہوا تھا۔حضرت عائشہ نے ایک آدمی سے کہا کہ یہ خوشا اس سائل کو دے دو۔اس آدمی نے تعجب کیا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی فمن يعمل مثقال ذرة خيراً يره اگر کوئی ذرہ برابر بھی نیکی کرے تو اس کا بدلہ پائے گا۔غریب صحابہ کی قربانی کا یہ عالم تھا وہ مزدوری اور رات کی دھاڑی لگا کر مالی قربانی میں حصہ لیتے۔مندرجہ بالا آیت کا نزول بھی اس ایک قربانی کی داستان پیش کر رہا ہے۔حضرت ابو عقیل ایک دفعہ ایک جہاد کے لئے تیاری میں شریک ہونے کے لئے ساری رات مزدوری کی اور دو صاع (قریباً سات 9