قربانی کا سفر — Page 8
پر حاء کا باغ ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اللہ میری اس نیکی کو قبول کرے گا اور میرے آخرت کے ذخیرہ میں شامل کرے گا۔حضور اپنی مرضی کے مطابق اس کو اپنے مصرف میں لائیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا واہ واہ بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ مال ہے بڑا نفع مند ہے اور جو تو نے کہا ہے وہ بھی میں نے سن لیا ہے۔میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں اور چچیرے بھائیوں میں تقسیم کرو۔(حديقة الصالحين 699) ٢ - مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تا کہ وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھائے۔اور اللہ ( رزق ) قبض بھی کر لیتا ہے اور کھول بھی دیتا ہے۔اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ابو الله الد عداع' آنحضرت علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس دو باغ ہیں اور اگر میں ان میں سے ایک صدقہ کر دوں تو کیا مجھے جنت میں ایسا ہی باغ ملے گا۔فرمایا ہاں پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا میری بیوی اور بیٹا بھی میرے ساتھ ہوں گے ، فرمایا ہاں اس پر اس پر ابوالد عدائخ نے کہا کہ میں اپنا بہترین باغ راہِ خدا میں صدقہ کرتا ہوں اور پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس گئے جو اسی باغ میں تھے۔وہ باغ کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اپنی بیوی کو یہ واقعہ سنایا ، انہوں نے جواب دیا کہ آپ نے بہت اچھا سودا کیا ہے۔پھر وہ اس باغ سے چلے گئے۔آنحضور نے فرمایا ابوالد عداع کے لئے کتنے ہی 00 8