اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 5
راستے پر چلا۔اُن لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا ہے۔جن پر مع الشهدِينَ ) (آل عمران : ۵۲) نہ تو (بعد میں تیرا غضب نازل ہوا (ہے) اور نہ وہ (بعد میں) گمراہ اسے ہمارے رب ! جو کچھ تو نے اتارا ہے اُس پر ہم ایمان لے آئے ہیں۔(ہو گئے) ہیں۔اے خدا ہماری دعا قبول کر۔اور ہم اس رسول کے متبع ہو گئے ہیں۔اس لئے تو ہمیں گواہوں میں لکھ ہے۔۲- اقرار ایمان اور حصول صالحیت کی تھا سب چھاپنے ولی کے حضور پیش کرکی براہیمی دعا قرآن شریف میں یہ دعا اس مخلص اور نیک گروہ سے منسوب ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا سے قبل قرآن شریف میں مومنوں کو غیر مذاہب بالخصوص عیسائیت میں سے حق کو شناخت کرنے کے بعد ایمان اُسوہ ابراہیمی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔لائے اور یہ دعا کی : ربَّنَا آمَنَّا نَا كُتُبُنَا مَعَ الشَّهِدِينَ ، وَمَا لَنَا لا نُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ ، وَنَطْمَعُ ان يُدخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّلِحِينَ۔0 رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (الممتحنه : ۵) اے ہمارے رب ہم تجھ پر توکل کرتے ہیں اور تیری طرف مجھکتے ہیں ، اور تیری طرف ہم کو لوٹ کر جانا ہے۔(المائده : ۸۴-۸۵) ھ حسناتِ دین ودنیا کے حصول کی دُعا اے ہمارے رب ! ہم ایمان لے آئے ہیں میں ہمارا نام بھی گواہوں کے ساتھ لکھ ہے۔اور کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے ہم اللہ پر اور اس سچائی حضرت انس بن مالک سے کسی نے کہا کہ ہمارے لئے دعا کریں، حضرت پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں حالانکہ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ مہارا ارب انس نے یہ دُعا پڑھی۔اس نے مزید دعا کا تقاضا کیا تو حضرت انس ہم نے فرمایا ہمیں نیک لوگوں میں داخل کرے۔تم اور کیا چاہتے ہو، تمہارے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی تو مانگ چکا ہوں۔-۳- اقرار ایمان و شل اور اسکی قبولیت کی دعا ( تفسیر قرطبی جزء ۲ ص ۲۳) حضرت انس کی ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم می دعا بہت حواریان کسی ناصری علیہ السلام نے چاروں طرف شیخ کا انکار دیکھے کہ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔(بخاری کتاب التفسير مدد کا نعرہ بلند کیا۔شیخ پر ایمان لائے اور یہ دعا کی رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنةً وقِنَا عَذَابَ النَّارِه (البقره : ۲۲)