اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 6
ترجمہ : اے ہمارے رب! ہمیں ( اس دنیا کی زندگی) میں (بھی کامیابی کرتے تھے کہ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین قائم کرے۔(دے) اور آخرت میں (بھی) کامیابی (دے) اور ہمیں آگ کے عذاب آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا دل بدل بھی جاتے ہیں ؟ حضور نے یہ قرآنی دعا پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ امکانی طور پر ہر انسان کے پھسلنے کا خطرہ سے بیچا۔4- دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا ہوتا ہے اس لئے یہ دُعا کثرت سے پڑھنی چاہیے۔(الدر المنشور للسیوطی جلد ۲حث) حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے یہ دعا کی : وَاكْتُبْ لَنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ إِنَّا هُدْنَا اليك (الاعراف: ۱۵۷) اور تو ہمارے لئے اس دنیا میں بھی سیکی لیکھ اور آخرمی زندگی میں بھی امیکی لکھے ) ہم تو تیری طرف آگئے ہیں۔روایت ہے کہ حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے رویا میں دیکھا کہ حضرت میسج موجود علیہ السلام فرماتے ہیں ہماری جماعت کو یہ دعا کثرت سے پڑ ھنوچا ہیئے۔رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔( آل عمران : ۹) اسے ہمارے ربت تو ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو کچھ نہ کر -- وساوس شیطانی سے بچنے کی دعا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت کے سامان عطا کر۔یقینا تو بہت ہی عطا کر نیوالا ہے۔۹ - ثبات قدم اور کفار کے مقابلہ پر نصرت کی دُعا عمرو بن سعید روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سوتے وقت پڑھنے کے لئے کچھ دعائیں سکھاتے تھے اُن میں شیطانی وساوس سے بچنے کی یہ ڈھا بھی شامل تھی :- (الدر المنثور للسيوطى جلده مثل ) رَبِّ أعوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونَ۔(المومنون : ۹۸، ۹۹) اسے میرے رب میں سرکش لوگوں کی شرارتوں سے پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب با یکیں پناہ مانگتا ہوں اس ہے کہ وہ میرے سامنے آئیں۔ہمیشہ ہدایت پر قائم رہنے کی دعا حضرت امیر سلام یہ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا قرآن شریف سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت طالوت (جلد عون اجب اپنے دشمن جالوت کے مقابل پر نکلے تو انہوں نے یہ دُعا کی جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی اور ان کے دشمن کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی۔(البقرہ) ربنا افرغ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة : (۲۵) اسے ہمارے رب! ہم پر قوت برداشت نازل کر اور (میدان جنگ میں) ہمارے قدم جمائے رکھے اور (ان ) کافروں کے خلاف ہماری مدد کر۔