اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 10 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 10

۱۹ میں جانا مجھے زیادہ پسند ہے اور اگران کی تدبیر کے نہیں) کو تو مجھ سے نہیں ہٹائیگا ایک شخص دیکھتے سے اچانک ہلاک ہو گیا تو اس پر حضرت موسی علیہ السلام نے یہ دعا کی توئیں اُن کی طرف جھک جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا۔۲۲۔بیماری سے شفایابی کی دعا جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے موسی کو معاف کر دیا۔(القصص (لا) رب اني ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي (القصص: ۱۷) اے میرے رب ! میں نے اپنی جان کو تکلیف میں ڈال دیا ہے پس تو میرے حضرت ایوب نے بیماری سے نجات کی اس دُعا میں اپنی حالت زار اس فعل پر پردہ ڈال اور بخش دے۔کو پیش کر کے اس طرح رحم طلب کیا۔یہ دعا قبول ہوئی اور معجزانہ طور پرانکی بیماری یار دُور ہوئی۔حصول مغفرت اور رحمت کی دعائیں الي مشى الفرو انت ارحم الرحمين 10 الانبياء )) حضرت موسی علیہ السلام کی قوم سے غیر حاضری کے دوران جب بنی اسرائیل (اے میرے رب ! ) میری یہ حالت ہے کہ مجھے تکلیف نے آپکڑا ہے اور اے نے بچھڑے کو معبود بنا لیا تو حضرت مولی واپس تشریف لاکر اپنے نائب مع رجانشین بھائی ہارون سے سخت خفا ہوئے اور قوم کو بھی سرزنش کی جس پر آپ کی قوم نے خدا تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔۲۳ خدا تعالی کواپنا کفیل بناکر حصول منفرت رحمت کی دوا یا اور کہا کہ کیا تو وہ کیا کہ یا تو وہ بھی کرسکتے ہیں۔نادم ہو یہ دعا کی جسے قوم موسٹی کی دعائے تو یہ حضرت موسی علیہ السلام شرابیان لانے والوں کو لے کر دا مین محور میں نئی اشارہ ٢٥ - لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ۔(الاعراف : ۱۵۰) کے ماتحت گئے تو وہاں زلزلہ آگیا۔حضرت موسی علیہ السلام نے خیال کیا کہ شاید قوم انہوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے گا اور ہمیں معاف نہ کرے گا نے کہا اگر ہمارا ہم پر نہ کرے اور معاف کرے تو ہم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔کے شرک کی سزا ہے ، جس پر آپ نے یہ دعا کی :۔انت ولينا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغَفِرِينَ ۲۶۔اسی موقع پر حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون اور اپنے (الاعراف : ۱۵۶) لئے مغفرت کی یہ دُعا کی :- تو ہمارا کفیل اور دوست ہے۔پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو رب اغفر لي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ وَانْتَ بخشنے والوں میں سے سب سے بہتر ہے ارحم الرحمين۔(الاعراف: ۱۵۲) ۲۴- نادانستہ زیادتی کا اعتراف اور گائے بخشش اے میرے رب ! مجھ کو اور میرے بھائی کو بخش دے۔اور ہم دونوں کو اپنی حضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھوں دو جھگڑنے والوں کو چھڑاتے ہوئے رحمت میں داخل کردے اور تورحم کرنے والوں میں سب سے بڑا ہے۔