اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 11
H ۲۷ گمراہ قوم کے لیے بخشش کی دعا ۲۹ حصول مغفرت اور کینہ کے دو رہنے کی مینا دعا حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ساری ایک صحابی رسول نے آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جضور رات نماز میں یہ دُعا پڑھتے رہے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو تو سارا نے فرمایا یہ شخص ملتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عمر کو تجسس ہوا کہ کس عمل پر خداستان قرآن حفظ ہے آپ کیوں ایک آیت ہی دُہراتے رہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ کار فضل و احسان اس پر ہوا۔چنانچہ آپ اس شخص کے پاس جا کر مہمان رہے اس نے علیہ وسلم نے فرمایا میں اپنی امت کے لئے دعا کرتا رہا۔میں نے پوچھا جو اب کیا ملا ؟ خوب خاطر تواضع کی۔ابن حمد کہتے ہیں میں نے رات تہجد پڑھی وہ سوئے رہے۔صبیح فرمایا اگر وہ جواب بتا دوں تو اکثر لوگ نماز ترک کر دیں ا الا انتو لی ولی جلد ) میں نے نفلی روزہ رکھا انہوں نے نہ رکھا۔تب میں نے پوچھ ہی لیا کہ رسول اللہ نے یہ دعا قرآنی بیان کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے کی تھی۔فرمایا ہے تم جنتی ہو اپنا وہ عمل تو بتاؤ جو جنت کا موجب ہوا۔انہوں نے کہا۔آپ رسول اللہ سے ہی پوچھیں جنہوں نے آپ کو میرے جنتی ہونے کی خبر دی ہے۔ابن حمرا آنحضور کے پاس آئے تو حضور نے فرمایا کہ اسے جا کر میری طرف سے کہو کہ اپنا إن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (المائده : ١١٩) (خدایا) اگر تو انہیں عذاب دینا چاہے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر عمل بتا دے۔تب اُس شخص نے بتایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میری نظر میں دنیا کی تو انہیں بخشتا یا ہے تو تو بہت غالب اور محنتوں والا ہے۔کوئی حقیقت نہیں، جتنی مل جائے یا واپس چلی جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں۔دوسرے میرے دل میں کسی کے خلاف حسد یا کینہ نہیں۔حضرت ابن عمر نے کہا بلا شبہ ۲۸- قہر خداوندی سے بچنے کی دعا اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دی ہے۔یہی دُعا اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو سکھائی ربَّنَا اغْفِرُ لَنَا وَلا خَوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ عباد الرحمن کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ رحمان ہے۔(تفسیر الدر المنشور للسیوطی جلده (1990) خدا کے وہ بندے ہیں جو راتیں اپنے مولیٰ کے حضور سجود و قیام اور عبادات میں گزار دیتے ہیں اور غضب الہی سے بچنے کے لئے یہ دعائیں کرتے ہیں (التقرا مورد تا وَلا تَجْعَل في قُلُوبِنَا غِلَا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا إنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمُه والحشر: (1) اسے ہمارے رب ! ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے كَانَ غَرَا ماه (الفرقان : ۶۶) اے ہمارے رب ! ہم سے جہنم کا عذاب ملا ہے۔اس کا عذاب ایمان لاچکے ہیں۔اور ہمارے دلوں میں مومنوں کا کینہ نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے رب تو بہت مہربان (اور) بے انتہاء کرم کرنے والا ہے۔ایک بہت بڑی تباہی ہے۔