اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 9 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 9

1 ہماری زیا دتیاں تمہیں معاف کر اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور کافر لوگوں کے کو معاف نہ کرے اور رحم نہ کرے تو میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔خلاف ہماری مدد فرما۔۱۸۔دعائے رحمت و مغفرت ۲۰ مصیب سے نجات حاصل کرنے کی دُعا حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت آدم علیہ السلام نے الہی حکم کے خلاف بھول کر وہ شجرہ چکھ لیا جس فرمایا کہ حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا کی تھی کوئی بھی مسلمان وہ دعا کرے تو سے آپ کو روکا گیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کچھ دعائیہ کلمات سکھائے جن کے قبولیت کا موجب ہوتی ہے۔روایات میں ہے کہ اس دُعا کے بعد كذلك ننجی نتیجہ میں وہ اُن پر رجوع برحمت ہوا۔(البقرہ : ۳۸۔نیز الدرالمنثور جلد ۳ مث المؤمنین کا وعدہ ہے کہ جو مومن بھی اعتراف ظلم کر کے دُعا مانگے گا اُس کی دُعا ربَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا عَة وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا قبول ہوگی۔(تفسیر قرطبی جزء ۱۱ ص۳۳۲) لَنَكُونَ مِنَ الخَسِرِينَ (الاعراف : ۲۴) اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔لا اله الا انت سبحنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبیاء : ۸۸) تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے۔میں یقینا ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔١٩ حالت الاعلمی میں سوال سے بچنے کی دعا نے بخشش و رحمت ۲۱- بدی کے مقابلہ ہی طاقت حاصل کرنیکی دعا طوفان نوح میں جب حضرت نوح کا نا فرمان بیٹا بھی ہلاک ہونے لگا تو حضرت جب عزیز مصر کی بیوی اور دیگر عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نوح نے اپنے کانسر بیٹے کے متن میں دُعا کی جس پر عتاب ہوا کہ اپنے بڑے اعمال بدی کی طرف مائل کرنے کی تدبیر کی تو حضرت یوسف نے یہ عاجزانہ دعا کی میں کی وجہت وہ آلِ نوح میں شامل نہیں رہا۔تب حضرت نوح نے یہ عاجزانہ دعا کے متعلق قرآن شریف میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دُعا کو قبول کیا اور اُن کی جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور برکات کا مژدہ منایا گیا۔(ہود: ۴۹۷۵) عورتوں کی تدبیر سے حضرت یوسف علیہ السلام کو محفوظ رکھا۔رب السجن احتْ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنى إِلَيْهِ ، وَالا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ اسْتَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وا لا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَسِرِينَ (و: ۴۸) اسے میرے ربت با لیکن اس بارہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے کوئی ایسا الجهلِينَ۔(یوسف : ۳۴) سوال کروں جس کے متعلق مجھے حقیقی علم حاصل نہ ہو۔اور اگر تو میری گزشتہ غفلت اے میرے رب ! جس بات کی طرف وہ مجھے ملاتی ہیں اس کی نسبت قید خا