اَدْعِیَۃُ القُرآن

by Other Authors

Page 12 of 28

اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 12

۲۳ ۲۲ ۳۰۔رحم پخشش کی دعا رَبِّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز میں پڑھنے کے لئے آنحضور صلی الہ علی کلم ربَّنَا وَادْخِلُهُمْ جَنَّتِ عَدْنِ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَ سے کوئی دعا سکھانے کی درخواست کی حضور نے جو دعا سکھائی اس میں خاص من صَلَحَ مِنْ آيَاتِهِمْ وَازْوَاجِهِمْ وَذُريَّتِهِمْ طور پر خدا کی رحمت اور مغفرت طلب کی گئی ہے۔جیسا کہ اس دعا میں ہر تغییر ا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُهُ وَتِهِمُ السّيات وَمَنْ تَقِ السيّاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ ، وَذَلِكَ الدر المنشور للسيوطي جلده مثا) حضرت عبد اللہ بن مسعود نے یہ دعائیہ آیت اور اس سے پہلے کی تین آیات هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُه" (المؤمن : ۸ تا ۱۰) پڑھ کر ایک بیمار پر دم کیا وہ اچھا ہو گیا۔آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم یقین و ایمان اے ہمارے رب! ہر ایک چیز کا تو نے اپنی رحمت اور علم سے احاطہ کیا رکھنے والا انسان یہ آیات پہاڑیو بھی پڑھے تو وہ جگہ چھوڑ دے۔ہوا ہے۔پس تو بہ کرنے والوں کو اور اپنے راستہ کے اوپر چلنے والوں کو معاف ( تفسیر قرطبی جزء ۲ ص۱۵) فرما اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے۔اے ہمارے رب ! اور ان کو اور رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِین (المومنون: 19) ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں نہیں ے میرے رب ! معاف کر اور رحم کرے اور تو سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے ان جبلتوں میں داخل کر مین کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے یقینا تو غالب حکمت والا ہے۔اور ان کو بُرائیوں سے بچائے۔اور جیسے تو اس دن برائیوں کے نتیجہ ) سے ۱۳۱- فرشتگان عرش کی مومنوں کے حق میں عاجزانہ جائیں اتنے ہے نے اسے اس پر کیا اور بہت بڑی کامیابی ہے۔یا کا ایک ایک ان کے وارنا الالات ان کی کیا خدا کی راه من علم برداشت کرنیوالی بیوی ی تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ میں بھی تمہیں خدا کی عظمت کی ایک بات بتاتا ہوں اور پھر آپ نے عرش بردار فرشتوں کا ظالم شوہر سے نجات کی دعا ذکر فرمایا۔جو خدا تعالی کی عظیم الشان مخلوق ہیں۔تغیر الدر النور السيول ماده ای اساسی یی بن معاذ رازی کہا کرتے تھے کہ ایک فرشتہ و عرش بھی مومنوں کے فرعون جو اپنی مومنہ بیوی پر بھی تبدیلی مذہب کے باعث جبر و تشدو روا رکھتا لئے استغفار کرے تو بخشش کی توقع ہے کجا یہ کہ تمام عرش بردار فرشتے ان کے تھا، اس کے مظالم سے بچنے کی یہ دعا اُس کی بیوی نے کی۔روایات میں مذکور ہے کہ دعا قبول ہوئی اور فرعون کی بیوی کو اسی دنیا میں جنت کا گھر دکھایا گیا۔لئے بخشش طلب کر رہے ہیں۔(تفسیر قرطبی جزء ۱۵ ۲۹۵۵)