اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 13
۲۵ ۲۴ رب ابنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ ۳۵- ظالم بستی کے ہلکے ظلم سے چنے اور ہجرت کی عا فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ۔(التحریم: ۱۲) حضرت عبد اللہ بن عباس ( جن کی والدہ ام فضل ابتدائی زمانے میں ایمان اے خدا ! تو اپنے پاس ایک گھر جنت میں میرے لئے بھی بنا دے اورمجھ کو لے آئی تھیں بیان کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کر جانے فرعون اور اس کی بد اعمالیوں سے بچا۔اور اسی طرح (اسکی ظالم قوم سے نجانے کے بعد میں اور میری والدہ بھی مکہ کے ان کمزور بچوں اور عورتوں میں شامل تھے جن الملوک انجام یک نظلم سے بچنے کی دعاے رب کا وار کا ذکر قرآن شریف میں ہے کہ وہ ہجرت کے لئے نصرت الہی کی دعائیں کرتے ہیں۔(بخاری کتاب التفسیر) فتح مکہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان مظلوموں کو اہل مکہ اصحاب اعراف (یعنی کامل مومن ) جب جنت کے بعد جہنم کا نظارہ سے ظلم سے نجات دی۔کریں گے تو معایہ دعا پڑھیں گے۔(الاعراف: ۴۷، ۲۸) ربَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هذه الْقَرْيَةِ الظَّالِماهْلُهَا دينَا لا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (الاعراف : ۴۸) وَاجْعَلْ لَنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا (النساء : 44) اے ہمارے رب! انہیں ظالم قوم میں سے مت بنائیں۔اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں کال ۲۲- ظالم قوم کے فتنہ سے بچنے کی دُعا اور اپنی جناب سے ہمارا کوئی دوست بنا کر بھیج) اور اپنے حضور سے رکھی لا کو) ہمارا مدد گار بیار کو کھڑا کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں ایمان لانے والی نوجوانوں کی ۳۶- قوت و طاقت پا کر ظلم سے بیچنے کی دُعا قلیل تعداد کو نصیحت کی کہ اب ایمان لائے ہو تو خدا پر تو قتل کرنا جس کے جواب میں انہوں نے یہ دعا کی :- عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلْقَوْمِ گویا اپنی قوم سے عضو کے سلوک کی تعلیم دی گئی العلمين ، وَنَحْنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات کے وعدوں کے ساتھ یہ دعا سکھا کر رَبِّ إمَّا تُريَى مَا يُوعَدُونَ هُ رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِي في القَوْمِ الظَّلِمِينَ ) (المؤمنون : ۹۵،۹۴) ہم اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔اے ہمارے رب انہیں رانا عالمی لانے میرے رب ! اگر تو میری زندگی میں وہ کچھ دکھا دے جس کا ان سے لوگوں کے لئے فتنہر کا موجب نہ بنا۔اور اپنی رحمت سےہمیں کافر و و ا ظلم سے نجات کے وعدہ کیا جا رہا ہے۔تواے میرے رب ! تو مجھے ظالم قوم میں سے نہ بنائیوں