تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة الملك دو، تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا ألْقِيَ فِيهَا فَوج سَالَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمُ نَذِيرُه قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبُنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللهُ مِنْ شَيْءٍ إِنْ انْتُم الا في ضَلل كبيره اور جب دوزخ میں کوئی فوج کافروں کی پڑے گی تو جو فرشتے دوزخ پر مقرر ہیں وہ دوزخیوں کو کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس کوئی نذیر نہیں آیا تھا۔وہ کہیں گے کہ ہاں آیا تو تھا مگر ہم نے اس کی تکذیب کی اور ہم نے کہا کہ خدا نے کچھ نہیں اُتارا۔اب دیکھو ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دوزخی دوزخ میں اس لئے پڑیں گے کہ وہ وقت کے نبیوں کو قبول نہیں کریں گے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۲) خوب یا د رکھو کہ قلوب کی اصلاح اس کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیاں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں۔بلکہ ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہیے۔پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا ؟ آلھ يَأْتِكُم نَذیر کا جب سوال ہوگا تو پتہ لگے گا۔اصل بات یہی ہے کہ ؎ خدا را بخدا تواں شناخت اور یہ ذریعہ بغیر امام نہیں مل سکتا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ نشانوں کا مظہر اور اس کی تجلیات کا مورد ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے مَن لَّمْ يَعْرِفُ إِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ ميتة الجاهلية۔یعنی جس نے زمانہ کے امام کو شناخت نہیں کیا۔وہ جہالت کی موت مر گیا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۵ صفحه ۱۰) وَقَالُوا لَو كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَب السَّعِيرِ دوزخی کہیں گے کہ اگر ہم عقلمند ہوتے اور مذہب اور عقیدہ کو معقول طریقوں سے آزماتے یا کامل عقلمندوں اور محققوں کی تحریروں اور تقریروں کو توجہ سے سنتے تو آج دوزخ میں نہ پڑتے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۲) قلب اور عرش کے درمیان گویا بار یک تار ہے۔قلب کو جو حکم کرتا ہے اس سے ہی لذت پاتا ہے۔