تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 36

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶ سورة الملك خارجی دلائل اور براہین کا محتاج نہیں ہوتا ہے، بلکہ ملہم ہو کر خدا سے اندر ہی اندر باتیں پا کر فتویٰ دیتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ جب تک قلب قلب نہ بنے کو كُنَّا نَسْعُ او تعقل کا مصداق ہوتا ہے۔یعنی انسان پر ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ جس میں نہ قلب و دماغ کی قوتیں اور طاقتیں ہوتی ہیں۔پھر ایک زمانہ دماغ کا آتا ہے۔دماغی قو تیں اور طاقتیں نشونما پاتی ہیں اور ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ قلب منور اور مشتعل اور روشن ہو جاتا ہے۔جب قلب کا زمانہ آتا ہے۔اس وقت انسان روحانی بلوغ حاصل کرتا ہے اور دماغ قلب کے تابع ہو جاتا ہے اور دماغی قوتوں کو قلب کی خاصیتوں اور طاقتوں پر فوق نہیں ہوتا۔الحام جلد ۵ نمبر ۹ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ صفحه ۴) ساری سعادتیں علم صحیح کی تحصیل میں ہیں۔یہ جس قدر لوگ نصرانی ہوئے ہیں وہ جہالت کے سبب ہوئے اگر علم کامل ہوتا تو انسان کو خدا نہ بناتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہنمی کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنا في أصحب السَّعِير - الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورمحه ۷ ارجولائی ۱۹۰۲ صفحه ۲) لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا في أصحب السَّعِيرِ یعنی اگر ہم شریعت پر چلتے یا کانشس پر ہی عمل کرتے تو اصحاب السعیر سے نہ ہوتے۔البدر جلد نمبر ۲ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵) میری تائید اور تصدیق اور اس سلسلہ کی سچائی کے لیے دلائل عقیلہ موجود ہیں۔کاش یہ لوگ اگر نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے واقف نہیں تھے اور ان آیات ارضیہ اور سماویہ کو جو میری صداقت کے ثبوت میں میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے تو عقل ہی سے کام لیتے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم میں ذکر آیا ہے کہ جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنی غلطی پر اطلاع ہوگی تو کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْع أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَا فِي اَصْحَب السَّعِيرِ اے کاش اگر ہم سنتے اور پھر سن کر عقل سے کام لیتے تو ہم جہنمی نہ ہوتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تدبر کے سوا ایمان صحیح نہیں ہوتا۔الخام جلد ۹ نمبر ۲۰ مورخه ۱۰ جون ۱۹۰۵ صفحه ۲) (اخبار بد جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ /جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۳) علم صحیح اور عقل سلیم یہ بھی خوش قسمتی کی نشانیاں ہیں۔جس میں شقاوت ہو اس کی مت ماری جاتی ہے۔وہ نیک کو ہد اور بد کو نیک سمجھتا ہے۔( اخبار بدر جلدے نمبرے مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۸ء صفحه ۴)