تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 34

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴ سورة الملك فرشتے ہیں اور اب یہ قول اللہ جل شانہ کا کہ شہب ثاقبہ کو چلانے والے وہ ستارے ہیں جو سماء الدنیا میں ہیں بظاہر منافی اور مبائن ان آیات سے دکھائی دیتا ہے جو فرشتوں کے بارے میں آئی ہیں لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو کچھ منافی نہیں کیونکہ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام کے لیے بطور جان کے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی جان اس شے سے جدا نہیں ہوتی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض مقامات میں رمی شہب کا فاعل فرشتوں کو ٹھہرایا اور بعض دوسرے مقامات میں اسی رمی کا فاعل ستاروں کو ٹھہرا دیا کیونکہ فرشتے ستاروں میں اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ جان بدن میں اپنا اثر ڈالتی ہے تب وہ اثر ستاروں سے نکل کر ان ارضی بخارات پر پڑتا ہے جو شہاب بننے کے لائق ہوتے ہیں تو وہ فی الفور قدرت خدا تعالیٰ سے مشتعل ہو جاتے ہیں اور فرشتے ایک دوسرے رنگ میں شہب ثاقبہ سے تعلق پکڑ کر اپنے نور کے ساتھ یمین اور بیسار کی طرف ان کو چلاتے ہیں اور اس بات میں تو کسی فلسفی کو کلام نہیں کہ جو کچھ کا ئنات الجو یا زمین میں ہوتا ہے عمل ابتدائی ان کے نجوم اور تاثیرات سماویہ ہی ہوتی ہیں۔ہاں اس دوسرے دقیق بھید کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ مجوم کے قومی فرشتوں سے فیض یاب ہیں اس بھید کو اول قرآن کریم نے ظاہر فرمایا اور پھر عارفوں کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی۔غرض اس آیت سے بھی منقولی طور پر یہی ثابت ہوا کہ فرشتے نجوم اور آسمانی قومی کے لیے جان کی طرح ہیں اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قران کریم میں کبھی نجوم کا فعل فرشتوں کی طرف منسوب کیا ہے اور کبھی فرشتوں کا فعل نجوم کی طرف منسوب کر دیا ہے بات یہ ہے کہ جب کہ قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے فرشتے نجوم اور شمس اور قمر اور آسمان کے لیے جان کی طرح ہیں اور قیام اور بقا ان تمام چیزوں کا فرشتوں کے تعلق پر موقوف ہے۔اور ان کے ارجاء کی طرف کھسک جانے سے تمام اجرام ستاروں اور شمس و قمر اور آسمان کو موت کی صورت پیش آتی ہے تو پھر اس صورت میں وہ جان کی طرح ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۰ تا ۱۴۴ حاشیه ) چونکہ رجم کی خدمت فرشتے کرتے ہیں نہ کہ ستارےلہذا اسی سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ ہر یک ستارے پر ایک فرشتہ مؤکل ہے اور چونکہ فرشتے ستاروں کے لئے بوجہ شدت تعلق جان کی طرح ہیں اس لئے اس آیت میں فرشتوں کا فعل ستاروں کی طرف منسوب کیا گیا۔فتند بر۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۷۷ نوٹ )