تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 22

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲ سورة التحريم تو به دراصل حصولِ اخلاق کے لئے بڑی محرک اور موید چیز ہے اور انسان کو کامل بنادیتی ہے یعنی جو شخص اپنے اخلاق سیئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اُس کے لئے ضروری ہے کہ بچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تو بہ کے لیے تین شرائط ہیں۔ہدوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے تَوْبَةُ النُّصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جوان خصائل رڈیہ کے محرک ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ حیطہ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے۔مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے۔کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے۔تصورات کا اثر بہت زبر دست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہاں تک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے۔ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔یہ پہلی شرط ہے۔دوسری شرط عدم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے۔مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حفظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جاویں گے۔آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہو گا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب باتیں چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کو قلع و قمع کرے۔جب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہوا اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہاں تک کہ وہ