تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 21

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة التحريم نور میں غرق ہو جائیں۔وہ دوسری حالت کو دیکھ کر پہلی حالت کو ناقص پائیں گے۔پس چاہیں گے کہ پہلی حالت نیچے دبائی جائے۔پھر تیسرے کمال کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوسرے کمال کی نسبت مغفرت ہو یعنی وہ حالت ناقصہ نیچے دبائی جاوے اور مخفی کی جاوے۔اسی طرح غیر متناہی مغفرت کے خواہشمند رہیں گے۔یہ وہی لفظ مغفرت اور استغفار کا ہے جو بعض نادان بطور اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش کیا کرتے ہیں۔سوناظرین نے اس جگہ سے سمجھ لیا ہو گا کہ یہی خواہش استغفار فخر انسان ہے۔جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے نہ انسان اور اندھا ہے نہ سوجا کھا اور نا پاک ہے نہ طبیب - اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے ظلال اور آثار ہیں۔کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔یہ سچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں در حقیقت گندھک کے پتھر ہیں۔بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعكاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۲، ۴۱۳) بہشتیوں اور دوزخیوں کے لئے۔۔۔ایک اور درجہ دخول جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیے اور وہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قومی میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہو کر اور خدائے تعالیٰ کی تجلی رحم یا تجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمی کو بہت قریب پا کر یا جہنم کبری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔انہیں کی طرف اللہ جل شانہ فرماتا ہے نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ایسا ہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں اُن کے دلوں پر دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل کھائے فرماتا ہے نَارُ اللهِ الْمُوقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَة ( الهمزة : ٨٠٧) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۴)