تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 23
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة التحريم سیئات اس سے قطعا زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرما یا اَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا - رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۸،۱۵۷) انسان کو چاہئے کہ اگر تو بہ کرے تو خالص تو بہ کرے۔توبہ اصل میں رجوع کو کہتے ہیں۔صرف الفاظ ایک قسم کی عادت ہو جاتی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ صرف زبان سے تو بہ تو بہ کرتے پھرو بلکہ فرمایا کہ خدا کی طرف رجوع کرو جیسا کہ حق ہے رجوع کرنے کا کیونکہ جب متناقض جہات میں سے ایک کو چھوڑ کر انسان دوسری طرف آجاتا ہے تو پھر پہلی جگہ دور ہوتی جاتی ہے اور جس کی طرف جاتا ہے وہ نزدیک ہوتی جاتی ہے۔یہی مطلب تو بہ کا ہے کہ جب انسان خدا کی طرف رجوع کر لیتا ہے اور دن بدن اس کی طرف چلتا ہے تو آخر یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان سے دور ہو جاتا ہے۔اور خدا کے نزدیک ہوجاتا ہے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو جس کے نزدیک ہوتا ہے اس کی بات سنتا ہے اس لیے ایسے انسان پر جو عملی طور پر شیطان سے دور اور خدا سے نزدیک ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا نزول ہوتا ہے اور سفلی آلائشوں کا گند اُس سے دھویا جاتا ہے جیسے آگے فرمایا۔عسى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُم کیونکہ تو بہ میں ایک خاصیت ہے کہ گذشتہ گناہ اس سے بخشے جاتے ہیں۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۲) ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللهِ شَيْئًا وَ قِيلَ ادْخُلَا الرَ مَعَ اللهِ خِلِينَ وَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجْنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمانَ الَّتِى اَحْصَنَتُ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ۔انظُرُوا كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلَ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں کس طرح مریم لا