تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 432
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۳۲ سورة الناس الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۵،۴) اول بآخر نسبتی دارد۔آخر سورت میں شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم فرمائی ہے جیسے سورت فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا تھا ویسے آخری سورت میں خناس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور الضالین کا تعلق معلوم ہو اور آدم کے وقت میں بھی خناس جس کو عبرانی زبان میں نحاش کہتے ہیں جنگ کے لئے آیا تھا۔اس وقت بھی مسیح موعود کے زمانہ میں جو آدم کا مثیل بھی ہے ضروری تھا کہ وہی نحاش ایک دوسرے لباس میں آتا اور اسی لئے عیسائیوں اور مسلمانوں نے با تفاق یہ بات تسلیم کی ہے کہ آخری زمانہ میں آدم اور شیطان کی ایک عظیم الشان لڑائی ہوگی جس میں شیطان ہلاک کیا جاوے گا۔اب ان تمام امور کو دیکھ کر ایک خدا ترس آدمی ڈر جاتا ہے۔کیا یہ میرے اپنے بنائے ہوئے امور ہیں جو خدا نے جمع کر دیئے ہیں۔کس طرح پر ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو رکھا ہوا ہے۔وَلَا الضَّالِّينَ پر سورت فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز سے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورت فاتحہ کے انجام سے ہے۔ادھر مسیح اور آدم کی مماثلت ٹھہرائی اور مجھے مسیح موعود بنایا تو ساتھ ہی آدم بھی میرا نام رکھا۔یہ باتیں معمولی باتیں نہیں ہیں یہ ایک علمی سلسلہ ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس کی بنیاد رکھی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲، صفحه ۵) بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے ابتداء میں بھی ان ( عیسائیوں) کا ہی ذکر کیا جیسے کہ ولا الضالین پر سورہ فاتحہ کو ختم کیا اور پھر قرآن شریف کو بھی اسی پر تمام کیا کہ قُلْ هُوَ الله سے لے کر قُلْ اَعُوذُ برب الناس تک غور کرو اور وسط قرآن میں بھی ان کا ہی ذکر کیا اور تگادُ السَّمُوتُ يَتَفَكَّرُنَ مِنْهُ کہا۔بتاؤ اس دجال کا بھی کہیں ذکر کیا جس کا ایک خیالی نقشہ اپنے دلوں میں بنائے بیٹھے ہیں۔پھر حدیث میں آیا ہے کہ دجال کے لئے سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھو اس میں بھی ان کا ہی ذکر ہے۔اور احادیث میں ریل کا بھی ذکر ہے۔غرض جہاں تک غور کیا جاوے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ امر ذہن میں آجاتا ہے کہ دجال سے مراد یہی نصاری کا گروہ ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۳) جب ماں کی تولیت سے نکل آئے تو انسان کو بالطبع ایک متولی کی ضرورت پڑتی ہے۔طرح طرح سے اپنے متولی اور لوگوں کو بناتا ہے جو خود کمزور ہوتے ہیں اور اپنی ضروریات میں غلطان ایسے ہوتے ہیں کہ دوسرے کی خبر نہیں لے سکتے لیکن جو لوگ ان سب سے منقطع ہو کر اس قسم کا تقومی اور اصلاح اختیار کرتے