تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 431
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۱ سورة الناس جن وہ ہے جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں۔وہی پیار جو حوا سے آ کر فحاش نے کیا تھا۔اس پیار کا انجام وہی ہونا چاہیے جو ابتداء میں ہوا۔آدم پر اسی سے مصیبت آئی۔اس وقت وہ گویا خدا سے بڑھ کر خیر خواہ ہو گیا۔اسی طرح پر یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں جو شیطان نے کی تھی۔اس لئے قرآن شریف نے اول اور آخر کو اسی پر ختم کیا۔اس میں یہ سر تھا کہ تا بتا یا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے ولا ہے۔قرآن شریف کے اول یعنی سورت فاتحہ کو ولا الضالین پر ختم کیا۔یہ امر تمام مفسر با تفاق مانتے ہیں کہ ضالین سے عیسائی مراد ہیں اور آخر جس پر ختم ہوا وہ یہ ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ - إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ سورۃ الناس سے پہلے قُلْ هُوَ اللہ میں خدا تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس طرح پر گویا تثلیث کی تردید کی۔اس کے بعد سورۃ الناس کا بیان کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے۔پس آخری وصیت یہ کی کہ شیطان سے بچتے رہو۔یہ شیطان وہی نحاش ہے جس کو اس سورت میں خناس کہا ہے۔جس سے بچنے کی ہدایت کی۔اور یہ جو فر مایا کہ رب کی پناہ میں آؤ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسمانی امور نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں۔خدا کی معرفت ، معارف اور حقائق پر پکے ہو جاؤ تو اس سے بچ جاؤ گے۔اس آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی آخری جنگ کا خاص ذکر ہے۔شیطان کی لڑائی خدا اور اس کے فرشتوں سے آدم کے ساتھ ہو کر ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ اس کے ہلاک کرنے کو پورے سامان کے ساتھ اترے گا اور خدا کا مسیح اس کا مقابلہ کرے گا۔یہ لفظ صیح ہے جس کے معنے خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی میں۔حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔غرض اس کے لئے مقدر تھا کہ اس آخری جنگ میں خاتم الخلفاء جو چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو، کامیاب ہو۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۶) غرض سورة تبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور وَلَا الضَّالین کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونو کی تفسیر ہیں۔ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جبکہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورت فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے ان دونو بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تا کہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ