تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 433
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۳ سورة الناس ہیں ان کا وہ خود متولی ہو جاتا ہے اور ان کی ضروریات اور حاجات کا خود ہی کفیل ہو جاتا ہے۔انہیں کسی بناوٹ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔وہ اس کی ضروریات کو ایسے طور سے سمجھتا ہے کہ یہ خود بھی اس طرح نہیں سمجھ سکتا اور اس پر اس طرح فضل کرتا ہے کہ انسان خود حیران رہتا ہے۔گرند ستانی به ستم مے رسد والی نوبت ہوتی ہے لیکن انسان بہت سے زمانے پالیتا ہے۔جب اس پر ایسا زمانہ آتا ہے کہ خدا اس کا متولی ہو جائے یعنی اس کو خدا کی تولیت حاصل کرنے سے پہلے کئی متولیوں کی تولیت سے گزرنا پڑتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ - الهِ النَّاسِ - مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يوسوس في صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ - پہلے حاجت ماں باپ کی پڑتی ہے پھر جب بڑا ہوتا ہے تو بادشاہوں اور حاکموں کی حاجت پڑتی ہے۔پھر جب اس سے آگے قدم بڑھاتا ہے اور اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں نے متولی سمجھا ہوا تھا وہ خود ایسے کمزور تھے کہ ان کو متولی سمجھنا میری غلطی تھی کیونکہ انہیں متولی بنانے میں نہ تو میری ضروریات ہی حاصل ہو سکتی تھیں اور نہ ہی وہ میرے لئے کافی ہو سکتے تھے۔پھر وہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور ثابت قدمی دکھانے سے خدا کو اپنا متولی پاتا ہے۔اس وقت اس کو بڑی راحت حاصل ہوتی ہے اور ایک عجیب طمانیت کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔خصوصاً جب خدا کسی کو خود کہے کہ میں تیرا متولی ہوا تو اس وقت جو راحت اور طمانیت اس کو حاصل ہوتی ہے وہ ایسی حالت پیدا کرتی ہے کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔یہ حالت تمام تلخیوں سے پاک ہوتی ہے۔(البدرجلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) تبت وَالْحَمْدُ لله