تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 406
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۶ سورة النصر ہم کو وہ مشکلات پیش نہیں آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئے باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے جب تک پورے کامیاب نہیں ہو گئے اور آپ نے اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ دیکھ نہیں لیا۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۱۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کروڑ معجزوں سے بڑھ کر معجزہ تو یہ تھا کہ جس غرض کے لئے آئے تھے اسے پورا کر گئے ۔ یہ ایسی بے نظیر کامیابی ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی میں کامل طور سے نہیں پائی جاتی ۔ - حضرت موسیٰ بھی رستے ہی میں مر گئے اور حضرت مسیح کی کامیابی تو ان کے حواریوں کے سلوک سے ہویدا ہے۔ ہاں پ کو ہی یہ شان حاصل ہوئی کہ جب گئے تو رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا یعنی دین اللہ میں فوجوں کی فوجیں داخل ہوتے دیکھ کر۔ (اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۹ رمئی ۱۹۰۷ صفحه ۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مبعوث ہوئے تھے جب فسق و فجور ، شرک اور بت پرستی اپنے انتہاء کو پہنچ چکی تھی اور ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم : ۴۲ ) والا معاملہ ہو رہا تھا اور گئے اس وقت تھے جب وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا والا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا تھا اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی نظیر تمام دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہی تو کاملیت ہے کہ جس مقصود کے لئے آئے تھے اس کو کو پورا کر کے دکھا دیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو صلیب کا ہی منہ دیکھتے پھرے رے اور یہودیوں سے رہائی نہ پا سکے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالب ہو کر وہ اخلاق دکھائے جن کی نظیر نہیں ۔ الحکم جلدا انمبر ۳۹ مورخه ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحه ۶) شیعہ لوگ جس راہ کو اختیار کئے ہوئے ہیں اس راہ سے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا مذہب ہی برباد ہو جاتا ہے۔ دیکھو إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ افوَاجًا ۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دینِ الہی یعنی اسلام میں بہت کثرت اور بہتات سے لوگ شامل ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حینِ حیات میں ہی ایسا ظہور میں آوے گا۔ بھلا ان لوگوں سے کوئی پوچھے کہ کیا دو چار آدمیوں کا نام ہی افواج ہے اور کیا یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی لمبی محنت اور جا نگاہ کوششوں کا نتیجہ تھا ۔ افسوس ۔ دیکھو فوج ہی کچھ کم نہیں ہوتی یہاں تو اللہ تعالیٰ نے فوج کی بھی جمع کا لفظ بولا ہے اور افواجا کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں فوجوں کی فوجیں داخل اسلام