تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 405

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النصر آتے ہیں۔یہ نادانوں کا شبہ فضول ہے کہ کیوں مرتے ہیں۔ہم کہتے ہیں۔صحابہ جنگ میں کیوں شہید ہوتے تھے؟ کسی مولوی سے پوچھو کہ وہ جنگ عذاب تھی یا نہیں۔ہر ایک کو کہنا پڑے گا کہ عذاب تھی۔پھر ایسا اعتراض کیوں کرتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ پھر نشان مشتبہ ہو جاتا ہے ہم کہتے ہیں کہ نہیں نشان مشتبہ نہیں ہوتا۔اس واسطے کہ انجام کار کفار کا ستیا ناس ہو گیا اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا اور اسلام ہی اسلام نظر آتا تھا چنانچہ آخر اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کا نظارہ نظر آ گیا اسی طرح پر طاعون کا حال ہے۔اس وقت لوگوں کو تعجب معلوم ہوتا ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے جب طاعون اپنا کام کر کے چلی جائے گی اس وقت معلوم ہو گا کہ اس نے کس کو نفع پہنچایا اور کون خسارہ میں رہے گا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۴ء صفحه ۳) چونکہ ان ( انبیاء ) کی معرفت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مقام کو شناخت کرتے ہیں اس لئے نہایت انکسار اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔نادان جن کو اس مقام کی خبر نہیں ہے وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کی کمال معرفت کا نشان ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ - وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا - فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبَّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَاباً آیا ہے۔اس میں صاف فرمایا ہے تو استغفار کر۔اس سے کیا مراد ہے اس سے یہی مراد ہے کہ تبلیغ کا جو عظیم الشان کام تیرے سپرد تھا دقائق تبلیغ کا پورا پورا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس لئے اگر اس میں کوئی کمی رہی ہو تو اللہ تعالی اسے معاف کر دے۔یہ استغفار تو نبیوں اور راست بازوں کی جاں بخش اور عزیز چیز ہے۔اب اس پر نادان اور کوتاہ اندیش عیسائی اعتراض کرتے ہیں۔جہاں استغفار کا لفظ انہوں نے سن لیا جھٹ اعتراض کر دیا حالانکہ اپنے گھر میں دیکھیں تو مسیح کہتا ہے مجھے نیک مت کہہ۔اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشاء یہ تھا کہ مجھے خدا کہے۔یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا ان کے بھائی خدا کہتے تھے جو وہ یہی آرزو اس شخص سے رکھتے تھے کہ وہ بھی خدا کہے۔انہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔وہ بھی استاد استاد ہی کہا کرتے تھے پھر یہ آرزو اس غریب سے کیوں کر ان کو ہوئی۔کیا وہ خوش ہوتے تھے کہ کوئی انہیں خدا کہے یہ بالکل غلط ہے ان کو نہ کسی نے خدا کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۵ صفحه ۲) نمب