تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 407
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۰۷ سورة النصر ہو جاویں گی۔ان لوگوں کے عقائد کے لحاظ سے تو قرآن شریف ہی کی تکذیب لازم آتی ہے۔انہوں نے قرآن شریف کو تو محرف مبدل کا الزام دے کر چھوڑ دیا۔رہے قرآن شریف کے پہنچانے والے جن کی نسبت الله تعالى نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ فرمایا اور ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تخت کا وارث بنایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی ہوئی پیشگوئیوں کی تصدیق کرنے والے اور پورا کرنے والے بنایا۔انہی کے ہاتھ سے بڑے بڑے قرآنی وعدے پورے کئے۔قیصر وکسریٰ کے تخت اور خزانے انہی کے ذریعہ اسلام کا ورثہ بنائے۔سو ان کو غدار، ظالم، منافق اور غاصب کا لقب دے کر چھوڑ دیا۔ان کا تو وہ حال ہے کہ جس طرح ایک عورت کو جب اس کے دن حمل کے پورے ہو چکتے ہیں۔تو دردزہ شروع ہوتی ہے جس کی تکلیف سے وہ اور اس کے عزیز و اقارب اور خویش روتے ہیں اور دردمند ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک نازک حالت ہوتی ہے۔نتیجہ کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔مگر جب اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو جاوے اور وہ چلہ پورا کر کے غسل صحت بھی کرلے اور بچہ بھی اس کا صحیح سالم جیتا جاگتا ہو اس وقت لگے کوئی آدمی رو نے تو رونا کیا بے محل اور بے موقع ہوگا۔سو یہی حال ہے ان کا۔وقت گزر چکا۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا میابی کے ساتھ تخت خلافت کو مقررہ وقت تک زیب دے کر اپنی اپنی خدمات بجالا کر بڑی کامیابی اور اللہ کی رضوان لے کر چل بسے اور جنات و عیون جو آخرت میں ان کے واسطے مقرر تھے اور وعدے تھے و وان کو عطا ہو گئے اب سیہ روتے ہیں اور چلاتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ ایسے تھے اور ایسے تھے۔اقام جلد ۱۲ نمبر ۲۱ مورخه ۲۲ مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۳)