تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 12
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ الم سورة الطلاق الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۵) خدا پر ایمان ہے تو خدا رزاق ہے۔ اس کا وعدہ ہے جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ وار میں ہوں ۔ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ یعنی باریک سے بار یک گناہ جو ہے اسے خدا سے ڈر کر جو چھوڑے گا خدا ہر ایک مشکل سے اسے نجات دے گا ۔ یہ اس لیے کہا ہے کہ اکثر لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم کیا کریں ہم تو چھوڑ نا چاہتے ہیں مگر ایسی مشکلات آکر پڑتی ہیں کہ پھر کرنا پڑ جاتا ہے خدا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اسے ہر مشکل سے بچالے گا اور پھر آگے ہے يَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ یعنی ایسی راہ سے اسے روزی دے گا کہ اس کے گمان میں بھی وہ نہ ہوگی ۔ ذل (البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه (۹۲) خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگز نہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب و خاسر کرے اور ور ذ ذلت کی موت دیوے۔ جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہو ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نامرادر ہا۔ خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشیں اس کے حضور پیش نہ کرے اور خالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خود بخود اس کے واسطے راہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۔ اس جگہ رزق سے مراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزت علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کو ضرورت ہے اس میں داخل ہیں ۔ خدا تعالیٰ سے جو ذرہ بھر بھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَة (الزلزال : ٨ ) ہمارے ملک ہندوستان میں نظام الدین صاحب اور قطب الدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزت کی جاتی ہے وہ اسی لئے ہے کہ خدا سے ان کا سچا تعلق تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوں میں ہل چلاتے۔ معمولی کام کرتے مگر خدا تعالیٰ کے سچے تعلق کی وجہ سے لوگ ان کی مٹی کی بھی عزت کرتے ہیں ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۷) جو شخص بہت دعا کرتا ہے اس کے واسطے آسمان سے توفیق نازل کی جاتی ہے کہ گناہ سے بچے اور دعا کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گناہ سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ اسے مل جاتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَجْعَلُ لهُ مَخْرَجًا یعنی جو امورا سے کشاں کشاں گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان امور سے بچنے کی توفیق -