تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 11
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 11 سورة الطلاق سے حاصل کیا اگر وہ تقویٰ اختیار نہ کرتے تو وہ بھی دُنیا میں معمولی انسانوں کی حیثیت سے زندگی بسر کرتے۔دس ہیں کی نوکری کر لیتے یا کوئی اور حرفہ یا پیشہ اختیار کر لیتے اس سے زیادہ کچھ نہ ہوتا مگر اب جو عروج ان کو ملا اور جس قدر شہرت اور عزت انہوں نے پائی یہ سب تقویٰ ہی کی بدولت تھی۔انہوں نے ایک موت اختیار کی اور زندگی اس کے بدلہ میں پائی۔الحکم جلدے نمبر۷ مورخه ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸) جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے۔اس کو خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے اور کیوں کر آتا ہے خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم کریم ہے۔جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اسے ہر ذلت سے نجات دیتا ہے۔اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے۔مگر وہ جو ایک طرف دعوی انتظا کرتے ہیں اور دوسری طرف شا کی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے ان دونوں میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا ؟ خدا تعالی پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِیعاد خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقومی یا ان کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا کی نظر میں قابل وقعت ہو یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے لوگوں کے متقی اور ریا کارانسان ہوتے ہیں سوان پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شام تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حال سے شام کو دو تین آنے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں یہ بھی تو رزق ہے مگر لعنتی رزق ہے نہ رزق مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ - حضرت داؤوز بور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا جو ان ہوا جوانی سے اب بڑھا پا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیک مانگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو در بدرد ھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسرے کے آگے ہاتھ پسارنے سے محفوظ رکھتا ہے بھلا اتنے جو انبیاء ہوئے ہیں اولیاء گزرے ہیں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ بھیک مانگا کرتے تھے؟ یا ان کی اولاد پر یہ مصیبت پڑی ہو کہ وہ در بدر خاک بسر ٹکڑے کے واسطے پھرتے ہوں؟ ہر گز نہیں میرا تو اعتقاد ہے۔کہ آدمی با خدا اور سچا متقی ہو تو اس کی سات پشت تک بھی خدارحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا۔اور