تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 273
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۳ سورة الشمس مجھے حاصل ہو تو اس بارہ میں اس کو بھی کوئی طریق بتلایا جاتا ہے۔سو عام طور پر اس کا نام الہام ہے جو کسی نیک بخت یا بد بخت سے خاص نہیں بلکہ تمام نوع انسان اور جمیع افراد بشر اس علیہ العلل سے مناسب حال اپنے اس الہام سے مستفیض ہورہے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۹۸،۵۹۷) ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں روح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کے لئے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ابتلا کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں۔ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شر جس کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُوبِهَا - یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے اور نیکی کا بھی۔بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیونکہ اسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ورنہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقویٰ کی راہوں کی ہدایت کرے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۱٬۸۰ حاشیه ) بلاشبہ وہ تمام عمدہ باتیں جن سے انسانوں کو نفع پہنچتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی جاتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ بھی در حقیقت اسی کی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَ تَقُوبِهَا یعنی بُری باتیں اور نیک باتیں جو انسانوں کے دلوں میں پڑتی ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی الہام ہوتی ہیں اچھا آدمی اپنی اچھی طبیعت کی وجہ سے اس لائق ہوتا ہے کہ اچھی باتیں اس کے دل میں پڑیں اور بڑا آدمی اپنی بُری طبیعت کی وجہ سے اس لائق ٹھہرتا ہے کہ بُرے خیالات اور بداندیشی کی تجویزیں اُس کے دل میں پیدا لائق ہوتی رہیں اور در حقیقت نیک انسان اس قسم کے الہامات کے حاصل کرنے کے لئے فطرتا ایک نیک ملکہ اپنے اندر رکھتا ہے اور بُرا انسان فطرتا ایک بڑا ملکہ رکھتا ہے چنانچہ اسی ملکہ فطرتی کی وجہ سے بہت سے لوگ اچھی اور بری تالیفیں اور پاک اور نا پاک ملفوظات اپنی یادگار چھوڑ گئے ہیں۔بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۰)