تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 272

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۲ سورة الشمس کو جگایا اور ہر ایک نے اس وراء الوراء اور لطف اور ادق ذات کا نام صرف نبیوں کے پاک الہام سے سنا اگر خدا تعالیٰ کے پاک نبی دنیا میں نہ آئے ہوتے تو فلاسفر اور جاہل جہل میں برابر ہوتے دانا کو دانائی میں ترقی کرنے کا موقعہ صرف نبیوں کی پاک تعلیم نے دیا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۹۰،۱۸۹) ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جب سورج کی پیروی کرے یعنی چاند بہ پیروی کے کچھ بھی چیز نہیں اور اس کا نور سورج کے نور سے مستفاض ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو کیسا ہی اپنے اندر استعداد رکھتا ہے مگر جب تک وہ کامل طور پر خدا کی اطاعت نہ کرے اُس کو کوئی نور نہیں ملتا۔مگر افسوس ! کہ وید کو یہ بھی خبر نہیں کہ چاند اپنی روشنی سورج سے لیتا ہے اور اسی وجہ سے اُس نے برابر طور پر دونوں سورج اور چاند کو معبود ٹھہرایا ہے۔(چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۱،۲۹۰) جان کی قسم ہے اور اس ذات کی جس نے جان کو اپنی عبادت کے لئے ٹھیک ٹھیک بنایا۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳) یعنی ہر یک انسان کو ایک قسم کا خدا نے الہام عطا کر رکھا ہے جس کو نو ر قلب کہتے ہیں اور وہ یہ کہ نیک اور بد کام میں فرق کر لینا۔جیسے کوئی چور یا خونی چوری یا خون کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں اسی وقت ڈال دیتا ہے کہ تو نے یہ کام برا کیا اچھا نہیں کیا لیکن وہ ایسی القاء کی کچھ پرواہ نہیں رکھتا کیونکہ اس کا نور قلب نہایت ضعیف ہوتا ہے اور عقل بھی ضعیف اور قوت بہیمیہ غالب اور نفس طالب۔( براہین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۱۸۶ حاشیہ نمبر ۱۱) قرآن کریم میں اس کیفیت کے بیان کرنے کے لئے جو مکالمہ الہی سے تعبیر کی جاتی ہے الہام کا لفظ اختیار نہیں کیا گیا محض لغوی طور پر ایک جگہ الہام کا لفظ آیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْويها - سواس کو مانحن فیه سے کچھ تعلق نہیں۔اس کے تو صرف اس قدر معنی ہیں کہ خدائے تعالی بوجہ علت العلل ہونے کے بدوں کو اُن کے مناسب حال اور نیکوں کو اُن کے مناسب حال اُن کے جذبات نفسانی یا متقیانہ جوشوں کے موافق اپنے قانون قدرت کے حکم سے خیالات و تدابیر وحیل مطلوبہ کے ساتھ تائید دیتا ہے یعنی نئے نئے خیالات و جیل مطلوبہ اُن کو سوجھا دیتا ہے یا یہ کہ اُن کے ان جوشوں اور جذبوں کو بڑھاتا ہے اور یا یہ کہ اُن کے تختم مخفی کو ظہور میں لاتا ہے۔مثلاً ایک چور اس خیال میں لگا رہتا ہے کہ کوئی عمدہ طریقہ نقب زنی کا اس کو معلوم ہو جائے تو اُس کو سوجھایا جاتا ہے۔یا ایک متقی چاہتا ہے کہ وجہ حلال کی قوت کے لئے کوئی سبیل