تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 274

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۴ سورة الشمس و شخص نجات پا گیا جس نے اپنی جان کو غیر کے خیال سے پاک کیا۔اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ جس نے اس محبوب کو اپنے اندر آباد کیا۔۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تو اندر میں خود آباد ہے صرف انسان کی طرف سے بوجہ التفات الى الغیر دوری ہے پس جس وقت غیر کی طرف سے التفات کو ہٹالیا تو خود اپنے اندر نورالہی کو مشاہدہ کر لے گا خدا دور نہیں ہے کہ کوئی اس طرف جاوے یا وہ اس طرف آوے بلکہ انسان اپنے حجاب سے آپ ہی اس سے دور ہے پس خدا فرماتا ہے کہ جس نے آئینہ دل کو صاف کر لیا وہ دیکھ لے گا کہ خدا اس کے پاس ہی ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۳) مذہب اُس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں۔خدا کے لئے سب پر رحم کروتا آسمان سے تم پر رحم ہو۔آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نو ر تمام نوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو اور ہمدر دنوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو کہ یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اُترتے ہیں۔مگر یہ ایک دن کا کام نہیں ترقی کر و تر قی کرو۔اُس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اول بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دیئے جاتا ہے یہاں تک کہ آخر آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور اُن کا جز بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے بازو سے مارکھا کر یکدفعہ جدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتدا میں تھے۔یہی انسانی نفس کے سفید ہونے کی تدبیر ہے اور تمہاری ساری نجات اس سفیدی پر موقوف ہے۔یہی وہ بات ہے جو قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قد أفلح من زكتها یعنی وہ نفس نجات پا گیا جو طرح طرح کے میلوں اور چرکوں سے پاک کیا گیا۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۶،۱۵) قرآن شریف میں آیا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكتها اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔تزکیہ نفس کے واسطے صحبت صالحین اور نیکوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنا بہت مفید ہے۔جھوٹ وغیرہ اخلاق رذیلہ دور کرنے چاہئیں اور جو راہ پر چل رہا ہے اس سے راستہ پوچھنا چاہیے۔اپنی غلطیوں کو ساتھ ساتھ درست کرنا